رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: عدالت نے اوباما کیئر کو غیر آئینی قرار دے دیا


'اوباما کیئر' کے خاتمے کی کوششوں کے خلاف نکالے جانے والے ایک جلوس میں ایک خاتون نے کتبہ اٹھا رکھا ہے جس پر قانون کے حق میں عبارت درج ہے۔ (فائل فوٹو)

'اوباما کیئر' کے نام سے معروف اس قانون کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ ریاست ٹیکساس کی ایک وفاقی عدالت کے جج نے جمعے کو سنایا۔

امریکہ کی ایک عدالت نے سابق صدر براک اوباما کے دور میں بننے والے قانون 'افورڈیبل کیئر ایکٹ' کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔

'اوباما کیئر' کے نام سے معروف اس قانون کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ ریاست ٹیکساس کی ایک وفاقی عدالت کے جج نے جمعے کو سنایا۔

فورٹ ورتھ کے عدالتی ضلعے کے جج ریڈ او کونر نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ گزشتہ سال ٹیکس قوانین میں کی جانے والی تبدیلی کے تحت ہیلتھ انشورنس نہ خریدنے والے افراد پر جرمانہ ختم کردیا گیا تھا جس کے نتیجے میں پورا 'اوباما کیئر' ہی غیر مؤثر ہوگیا ہے۔

قانون کو غیر مؤثر قرار دینے کی درخواست امریکہ کی 20 ریاستوں کی ری پبلکن حکومتوں نے مشترکہ طور پر دائر کی تھی۔ ان ریاستوں کی طرف سے ریاست ٹیکساس اور ریاست وسکونسن کے اٹارنی جنرلز عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

مذکورہ قانون سابق صدر براک اوباما کی حکومت نے 2010ء میں منظور کیا تھا جسے داخلی محاذ پر ان کے آٹھ سالہ دورِ حکومت کی سب سے نمایاں کامیابی سمجھا جاتا ہے۔

گزشتہ سال اس قانون سے لگ بھگ ایک کروڑ 18 لاکھ ایسے امریکیوں نے استفادہ کیا تھا جو ہیلتھ انشورنس خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے یا انہیں پہلے سے موجود بیماریوں کی وجہ سے مہنگی انشورنس خریدنا پڑتی تھی۔

ری پبلکنز اس قانون کے شروع سے ہی سخت مخالف رہے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی انتخابی مہم کے دوران اس قانون کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن قانون کے خاتمے کی ری پبلکنز کی تمام کوششیں تاحال ناکام رہی ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 'اوباما کیئر' کے خلاف عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب کانگریس کو ایک بہتر قانون بنانا چاہیےجس سے عام لوگوں کو صحت کی بہتر سہولتوں کی فراہم ممکن بنائی جاسکے۔

عدالت میں قانون کے دفاع میں پیش ہونے والی ڈیموکریٹ ریاستوں کے اٹارنی جنرلز نے اعلان کیا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

اپیل کا فیصلہ ہونے تک قانون موثر رہے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG