رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشق شروع


جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشق شروع

امریکہ اور جنوبی کوریا کی سالانہ مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز منگل کو شمالی کوریا کی اس وارننگ کے باوجود ہوگیا ہے کہ ان مشقوں سے جزیرہ نما کوریا میں امن کی امیدوں کو نقصان پہنچے گا۔

دونوں ممالک کی 'کمبائنڈ فورسز کمانڈ (سی ایف سی)' کا کہناہے کہ کمپیوٹرز کی مدد سے کی جانے والی 10 روزہ مشق کا مقصد شمالی کوریا کی جانب سے کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں جنوبی کوریا کی دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔

سی ایف سی کے کمانڈر اور امریکی جنرل جیمس ڈی تھورمن کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی افواج عراق اور افغانستان میں حاصل ہونے والے تجربات کے علاوہ شمالی کوریا کی حالیہ جارحانہ کارروائیوں کے نتائج کی روشنی میں یہ مشقیں انجام دے رہی ہیں۔

گزشتہ ہفتے شمالی کوریا نے مذکورہ فوجی مشق ملتوی کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ان کوششوں کو نقصان پہنچے گا جو شمالی کوریا کو اپنے جوہری ہتھیاروں کا پروگرام ترک کرنے کے لیے مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے کی جارہی ہیں۔

اس سے قبل شمالی و جنوبی کوریا کے اعلیٰ حکام نے گزشتہ ماہ انڈونیشیا میں مذاکرات کیے تھے جو دونوں ممالک کے مابین گزشتہ برس نومبر کے بعد پہلا باقاعدہ رابطہ تھا جب شمالی افواج نے ایک سرحدی جزیرے پر بمباری کرکے چار جنوبی باشندوں کو ہلاک کردیا تھا۔

شمالی کوریا عموماً جنوب کی جانب سے کی جانے والی فوجی مشقوں کو جارحیت کی تیاری قرار دے کر مسترد کرتا آیا ہے تاہم سیول اور واشنگٹن نے پیانگ یانگ کے ان دعوؤں کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG