رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی کوریا کے جوہری مذاکرات کار کا دورہ امریکہ


جنوبی کوریا کے جوہری مذاکرات کار کا دورہ امریکہ

جنوبی کوریا کے جوہری مذاکرات کار وی سنگلک بدھ کو واشنگٹن میں امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے جن میں شمالی کوریا کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام پر تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کی حالیہ پیشکش پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

واشنگٹن روانگی سے قبل وی نے جنوبی کوریا کی 'یون ہاپ' نیوز ایجنسی کو بتایا کہ وہ اپنے دورے کے دوران شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر جنوبی کوریائی اور امریکی موقف میں ہم آہنگی لانے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ امریکی حکام کے ساتھ شمالی و جنوبی کوریا اور شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کریں گے۔

قبل ازیں واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ رواں ہفتے ہونے والے مذاکرات کا مقصد شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت کے لیے جنوبی کوریا اور امریکہ کے موقف میں ہم آہنگی لانا ہے۔ تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ اگر پیانگ یانگ چھ ملکی مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے تو اسے مزید اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

امریکہ، روس، چین، جاپان اور جنوبی کوریا شمالی کوریا کو خوراک، توانائی اور دیگر امداد کے بدلے میں اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے گزشتہ آٹھ برسوں سے پیانگ یانگ کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے۔ تاہم یہ مذاکرات 2008ء میں اس وقت تعطل کا شکار ہوگئے تھے جب شمالی کوریا نے ان سے علیحدگی کا اعلان کردیا تھا اور بعد ازاں جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کے تجربات شروع کردیے تھے۔

شمالی کوریا گزشتہ کچھ ماہ سے ان مذاکرات کی دوبارہ بحالی کی خواہش کا اظہار کر رہا ہے تاہم جنوبی کوریا اور امریکہ کا اصرار ہے کہ پیانگ یانگ پہلے اپنے ماضی میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرے۔

XS
SM
MD
LG