رسائی کے لنکس

چین سے تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے صدر اوباما نے 2009ء میں ایک خصوصی پروگرام کا اعلان کیاتھا جس کا مقصد حصول تعلیم کے لیے چین جانے والے طالب علموں کی حوصلہ افزائی تھا۔ اس پروگرام پر 2010ء میں عمل درآمد کا آغازہوا اور ان دنوں امریکی شہر شکاگو میں اس سلسلے میں پیش رفت جاری ہے۔

امریکی ریاست الی نوائے کے طالب علم ایک کلاس روم میں چین کے بارے میں پڑھ رہے ہیں۔ ان کی ٹیچر وین یا لیو کہتی ہیں کہ نوجوان طالب علموں کے لیے چینی زبان سیکھنا بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

وہ شہر شکاگو میں کالج کی تعلیم کے لیے تیاری کرانے والے ایک سکول میں چینی زبان پڑھاتی ہیں۔ شکاگو کے سرکاری ا سکولوں میں تقریباً دس سال سے چینی زبان بھی پڑھائی جارہی ہے۔

شکاگو کے میئر نے شہر کے 42 اسکولوں میں 12 ہزار طالب علموں کے لیے چینی زبان سکھانے کا پروگرام شروع کیا ہے۔ جو امریکہ میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔

ولیم سپینس ، چین کے دوشہروں شین یانگ اور شنگھائی کے امریکی شہر شکاگو کے درمیان ربط کی ایک کمیٹی کے نگران ہیں۔ ان کے مطابق امریکی اسکولوں میں چینی زبان کی تعلیم چین کے ساتھ تعلقات میں اضافے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس سال جنوری میں چینی صدر ہوجن تاؤ نے اپنے امریکہ کے سرکاری دورے میں والٹر پیٹن اسکول کے طالب علموں اور اساتذہ کے ساتھ بھی کچھ وقت گزارا۔

ولیم سپنس کہتے ہیں کہ اس ایک ملاقات کی وجہ سے چین میں شہر شکاگو کے بارے میں جو آگہی پیداہوئی، شایدہی کسی اور طرح پیدا کی جاسکتی تھی۔

2010ءمیں شنگھائی ایکسپو کی وجہ سے بھی چین میں امریکہ کےبارے میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے دفتر خارجہ کو اس ایکپو میں امریکہ کی جانب سے حصہ لینے کے لیےکہا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اُن امریکیوں کے لیے چینی زبان کی تعلیم بہت مدد گار ثابت ہوئی جو اس نمائش کا حصہ تھے۔

وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہاتھا کہ میں سمجھتی ہوں ہماری نمائش مقبولیت میں دوسرے نمبر پر اس لیے رہی کیونکہ نمائش دیکھنے والے اپنی زبان میں بات چیت کرنے والے امریکیوں سے مل کر بہت خوش ہوئے تھے۔ انہوں نے بہت سے سوال پوچھے، اور امریکی بھی اپنے تلفظ کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔ یہ ایک بہت زبردست موقع تھا۔

وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے شکاگو کے میئر کو چینی زبان سیکھنے کے پروگرام کی مشاورتی کمیٹی کی سربراہی کرنے کی ہدایت کی تھی۔ یہ پروگرام 2009 ءمیں شروع ہوا جس کے تحت صدر اوباما نےایک لاکھ امریکی طلبہ کو حصول تعلیم کے لیے چین بھیجنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ اس پروگرام کی کامیابی کا انحصار امریکہ بھر میں دوسرے اسکولوں میں بھی شکاگو طرز کے اقدامات پر ہے ۔

زبانوں کی تعلیم کے ان پروگراموں کے باوجود امریکی دفتر خارجہ کے مطابق چین میں انگریزی سیکھنے والے والوں کی تعداد امریکہ میں چینی زبان پڑھنے والے طالب علموں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کے مطابق امریکہ میں پڑھنے والے چینی طالب علموں کی تعد اد بھی چین میں امریکی طلبہ کی تعداد کی نسبت 10 گنا زیادہ ہے۔ ماہرین کو توقع ہے کہ صدر اوباما کے اس پروگرام کی مدد سے ان اعداد و شمار میں کچھ تبدیلی کی جا سکے گی۔

XS
SM
MD
LG