رسائی کے لنکس

logo-print

طرابلس:امریکی سفارت خانے سے ملحق احاطے پر ملیشیا کا قبضہ


دبئی میں قائم ’العربیہ نیٹ ورک‘ نے ایک وِڈیو جاری کی ہے جس میں ملیشیا کے جنگجوؤں کو اِس امریکی تنصیب کے ’سومنگ پول‘ میں چھت سے چھلانگ لگاتے دکھایا گیا ہے

لیبیا میں ایک اسلامی ملیشیا نے کہا ہے کہ اُس کے ایک گروپ نے طرابلس میں خالی امریکی سفارت خانے کی عمارت سے ملحقہ حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس سے ایک ہی ماہ قبل امریکی سفارتکار لیبیا کے دارلحکومت میں متحارب ملیشیاؤں کی پُرتشدد آپس کی لڑائی کے پیش نظر وہاں سے جا چکے ہیں۔

خبر رساں اداروں نے اتوار کے روز ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’ڈان آف امبریلا‘ نامی اسلام پسند ملیشیا گروپ سے وابستہ اتحاد کے مطابق، گذشتہ ایک ہفتے سے امریکی تحویل کے اس احاطے کا کنٹرول اُس نے سنبھال رکھا ہے، جس پر اُس نے طرابلس اور اُس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کنٹرول کے لیے ہفتوں تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد قبضہ جما لیا تھا۔

دبئی میں قائم العربیہ نیٹ ورک نے ایک وِڈیو جاری کی ہے جس میں ملیشیا کے جنگجوؤں کو اِس امریکی تنصیب کے ’سومنگ پول‘ میں چھت سے چھلانگ لگاتے دکھایا گیا ہے۔

لیبیا میں امریکی سفیر، ڈبورا جونز نے کہا کہ یوں لگتا ہے کہ یہ وڈیو سفارت خانے سے ملحقہ احاطے کے اندر ریکارڈ کی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ بظاہر سفارت خانے کا تحفظ کیا جا رہا ہے، جسے غارت گری سے محفوظ رکھا گیا ہے۔

طرابلس میں جھڑپوں سے بچنے کے لیے جولائی کےاواخر میں امریکی ایلچی ہمسایہ تیونیسیا کی طرف جاچکے ہیں، جس معاملے میں امریکہ نے کہا تھا کہ تحفظ یقینی بنانے تک وہ اپنے سفارت خانے کا کام منسوخ کر رہی ہے۔


گذشتہ تین سالوں کے دوران لیبیا میں شدت پسندی رفتہ رفتہ بڑھ چکی ہے، جب سے آمر معمر قذافی کو اقتدار سے ہٹایا گیا تھا۔

دریں اثناٴ، متحارب قانون ساز اسمبلیاں، جن میں سے ایک طرابلس اور دوسری 1500 کلومیٹر دور تبروک میں ہے، ملک کی حکمرانی کے فرائض سنبھالنے کے لیے، اپنے اپنے وزرائے اعظم کا چناؤ کر چکی ہیں۔

XS
SM
MD
LG