رسائی کے لنکس

شمالی شام: رقہ کے خلاف ممکنہ کارروائی، امریکی میرینز تعینات


ایسے میں جب میرینز کی آمد جاری تھی، ترک وزیر خارجہ نے جمعرات کو انتباہ جاری کیا کہ تُرک قیادت والی افواج امریکی حمایت یافتہ میلشیائوں کے خلاف حملہ آور ہو سکتی ہیں، جو ’کُرد پیپلز پراٹیکشن یونٹس‘ پر مشتمل ہیں، اگر وہ شمالی شام کے اِس کلیدی قصبے سے باہر نہیں نکل جاتے

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ’امریکی میرینز‘ کا ایک دستہ شمالی شام پہنچ چکا ہے، تاکہ رقہ پر حملے کی صورت میں مقامی افواج کو توب خانے کی مدد فراہم کی جا سکے۔ رقع داعش کے شدت پسند گروپ کا فی الواقع دارالخلافہ ہے۔

تاہم، ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور ترکی کے پاس ابھی تک کوئی حتمی سمجھوتا موجود نہیں، جس سے رقہ کی کارروائی کا طریقہٴ کار واضح ہوتا ہو، آیا امریکی حمایت یافتہ کُرد ملیشیائیں یا ترک قیادت والے شامی باغی کارروائی میں سرکردہ کردار ادا کریں گے۔ کارروائی کا مقصد شہر میں چھُپے ہوئے تقریباً 4000 جہادیوں کا صفایا کرنا ہے۔
ایسے میں جب میرینز کی آمد جاری تھی، ترک وزیر خارجہ نے جمعرات کو انتباہ جاری کیا کہ تُرک قیادت والی افواج امریکی حمایت یافتہ میلشیائوں کے خلاف حملہ آور ہو سکتی ہیں، جو ’کُرد پیپلز پراٹیکشن یونٹس‘ پر مشتمل ہیں، اگر وہ شمالی شام کے اِس کلیدی قصبے سے باہر نہیں نکل جاتے۔

رقہ کے خلاف کارروائی میں یہ عنصر معاملات میں پیچیدگی کا باعث بن سکتا ہے، ایسا کہ جسے کئی ماہ سے مؤخر کیا جاتا رہا ہے، چونکہ اِس بات پر تنازعہ جاری رہا ہے آیا کارروائی کی قیادت کون کرے گا۔

وزیر خارجہ مہلوت کوسگلو نے کہا ہے کہ ترک فوجیں منبج میں ’ کُرد پیپلز پراٹیکشن یونٹس‘ پر حملہ آور ہوسکتی ہیں، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ قصبے پر کنٹرول کرنے والے کُرد قابض دستے شمالی شام میں ’سیف زون‘ قائم کرنے کی ترکی کی کوششوں میں حائل ہو رہی ہیں۔

اِس کارروائی کے سلسلے میں اُنھوں نے کوئی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

ترکی ’کُرد پیپلز پراٹیکشن یونٹس‘ کو دہشت گرد گروپ قرار دیتا ہے، جِن کے تانے بانے وہ ترکی کی جانب سے بندش زدہ، ’کُردستان ورکرز پارٹی‘ سے ملاتا ہے، اور ترکی نے کئی بار امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ شامی کُرد میشیاؤں کی حمایت بند کرے۔

کوسگلو نے الزام لگایا ہے کہ رقہ میں داعش کے مضبوط ٹھکانے پر حملے کے بارے میں امریکہ کی پالیسی ابہام کا شکار ہے۔

حکام کے مطابق، شمالی شام میں ’ 11ویں میرین ایکس پیڈیشنری یونٹ‘ کے دستے تعینات کیا گیا ہے، جہاں سے توب خانے کے لحاظ سے رقہ 32 کلومیٹر کی رینج میں ہے۔

دستہ ’M 777ہووٹزرز‘ سے مسلح ہے، جو 155ملی میٹر کے گولے داغ سکتا ہے۔

ایک اعلیٰ امریکی دفاعی اہل کار نے کہا ہے کہ اِس دستے میں چند سو میرینز شامل ہیں۔ لیکن، پینٹاگان نے تعیناتی یا میرینز کی تنصیب کے مقام یا تعداد سے متعلق کوئی تفصیل بتانے یا تصدیق سے انکار کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG