رسائی کے لنکس

باوجود اِس بات کے کہ گذشتہ ہفتے امریکی وزیر دفاع جِم میٹس نے متنبہ کیا تھا کہ 2017ء ایک مشکل سال ثابت ہوگا، اِس تعیناتی کو ایک مثبت پیش رفت خیال جا رہا ہے

امریکی میرین کور ہیلمنڈ لوٹ آئی ہے، جس جنوبی افغانستان کے کشیدگی کے شکار صوبے میں وہ ماضی میں طالبان سے سنگین لڑائی لڑ چکی ہے۔ تعیناتی کا مقصد جاری سرکشی کو کنٹرول کرنے کے کام میں افغان افواج کو تربیت فراہم کرنا ہے۔

ہیلمند پہنچنے والے 300 فوجیوں میں سے متعدد نیٹو کی قیادت والی 'رزولوٹ سپورٹ' افواج کے تربیتی مشن کا حصہ ہیں، جہاں امریکہ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے تقریباً 1000 اتحادی فوجی طالبان سے لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے۔

میرینز کے لیے مشکل سال

سال 2014ء میں میرینز کے چلے جانے کے بعد 'لیدرنیک کیمپ' کا نظام افغان فوج کے حوالے کیا گیا تھا۔ میرینز کو توقع نہیں تھی کہ وہ کبھی واپس آئے گی۔ یہ حقیقت کہ اُسے واپس آنا پڑا اس بات کی دلیل ہے کہ اکیلا رہ جانے کے بعد افغان افواج کو مسائل درپیش رہے ہیں۔

باوجود اِس بات کے کہ گذشتہ ہفتے امریکی وزیر دفاع جِم میٹس نے متنبہ کیا تھا کہ 2017ء ایک مشکل سال ثابت ہوگا، اِس تعیناتی کو ایک مثبت پیش رفت خیال جا رہا ہے۔

اسٹاف سارجنٹ، جارج کالڈویل کے بقول، ''واپس آنے پر میں بہت خوش ہوں''۔ وہ دور افتادہ جنوبی ہیلمند میں پہلے بھی تعینات رہ چکے ہیں، جس دوران مل کر فوجی کارروائیاں کی گئیں اور افغان سرحدی پولیس کو تربیت دینے کا کام انجام دیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ''میں نے صوبہ ہیلند کو بہت سارا وقت دیا تھا۔ ہم نے کئی سال دفاعی کارروائیاں کیں، اور ہمیں افسوس ہوگا اگر یہ خطہ پھر سے عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے''۔ اُنھوں نے یہ بات، تربیتی کام کے لیے ذمہ داریوں کی منتقلی کی ایک تقریب کے دوران کہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG