رسائی کے لنکس

ریاض کو ہدف بنانے والا میزائل ایرانی ساختہ تھا: امریکی فوجی اہل کار


ایران نے میزائل داغنے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے اور سعودی عرب کے الزامات کو حقیقت سے دور اور خطرناک قرار دیا ہے

حوثی باغیوں کی جانب سے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والا میزائل ایرانی ساختہ تھا ؛ جس پر ’’ایرانی نشانات‘‘ واضح ہیں۔ یہ بات مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فضائی افواج کے اعلیٰ کمانڈر نے کہی ہے۔

جمعے کو دبئی میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، لیفٹیننٹ جنرل جیفری ایل ہیریجن نے کہا ہے کہ حکام ابھی اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں آیا یہ میزائل اسمگل کرکے یمن پہنچایا گیا تھا۔

سعودی عرب کے ولی عہد، محمد بن سلمان نے ایران پر ’’براہِ راست جارحیت‘‘ کا الزام لگایا ہے، جس سے قبل باغیوں نے ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بتانے ہوئے میزائل داغا۔ اُنھوں نے کہا کہ میزائل چلانا ممکنہ طور پر ’’جنگی جرم‘‘ کے زمرے میں آتا ہے۔

ایران نے میزائل داغنے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے اور سعودی عرب کے الزامات کو حقیقت سے دور اور خطرناک قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر، نِکی ہیلی نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ اُس نے اقوام متحدہ کی دو قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے، جس نے مبینہ طور پر حوثی باغیوں کو یہ میزائل فراہم کیے؛ اور کہا کہ امریکہ ’’بین الاقوامی قانون کی اِن شدید انحرافی پر خاموش نہیں رہے گا‘‘۔

منگل کے روز ایک بیان میں، اُنھوں نے کہا کہ ’’سعودی عرب کا یہ اعلان اس بات کی تصدیق ہے کہ ایرانی حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG