رسائی کے لنکس

logo-print

یہودی مخالف بیان پر ٹرمپ کا خاتون رکنِ کانگریس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی نئی رکن کانگریس، الہان عمر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے، جنھوں نے یہودی مخالف کلمات پر ریپبلیکن اور ساتھی ڈیموکریٹ ارکان دونوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر مذمت کے بعد پیر کے روز معذرت کر لی تھی۔

صدر نے منگل کے روز اخباری نمائندوں کو بتایا کہ عمر کی معذرت ’’کافی نہیں‘‘؛ اور مزید کہا کہ معافی کے لیے ’’ان کے الفاظ کھوکھلے تھے‘‘۔

ٹرمپ نے الہان عمر سے مطالبہ کیا کہ وہ کانگریس سے مستعفی ہوں یا کم از کم ایوان کی امور خارجہ کمیٹی کی اپنی رکنیت چھوڑ دیں۔

الہان عمر صومالی مہاجر اور مسلمان ہیں جنھوں نے منی سوٹا کی وسط مغربی ریاست سے منتخب ہونے کے بعد پانچ ہفتے قبل عہدے کا حلف لیا۔ اُنھوں نے اپنے یہودی مخالف کلمات پر پیر کے روز معذرت کی، جس کے خلاف ریپبلیکن اور اُن کے ڈیموکریٹ پارٹی کے اپنے ارکان دونوں نے اُن کی وسیع تر مذمت کی تھی۔

اتوار کے دِن ٹوئٹر پر اپنے ٹوئیٹس میں رکن کانگریس الہان عمر نے کہا تھا کہ امریکہ میں اسرائیل کا حامی لابیئنگ گروپ، ’امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی‘ یہودی ریاست کی حمایت کے حصول کے لیے قانون سازوں کو خرید رہا ہے۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ قانون سازوں کی جانب سے اسرائیل کی حمایت کا اصل سبب امریکی اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی کی جانب سے دی جانے والی مالی حمایت ہے، حالانکہ غیر نفع نقصان کی بنیاد پر کام کرنے والی یہ تنظیم امریکی انتخابی مہم کے لیےسیاست دانوں کو براہ راست چندہ نہیں دیتی۔

تنظیم امریکی سیاستدانوں کی انتخابی مہم کے لیے عطیات نہیں دیتی، جب کہ امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی کے ارکان ذاتی طور پر چندہ دے سکتے ہیں۔

ایک صحافی کی جانب سے انٹرویو کے دوران، الہان عمر نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ ’’یہ سب کچھ بینجامن کی بیبی کا معاملہ ہے‘‘۔ اُنھوں نے یہ الفاظ 100 ڈالر کے کرنسی نوٹ پر امریکہ کے ایک بانی، بینجامن فرینکلن کی تصویر کا حوالہ دے کر کہا۔ پھر ایک اور صارف کے سوال پر، الہان عمر نے دوسرے ٹوئیٹ میں کہا: یہ ’ایپک‘ ہے جو، اُن کے خیال میں، امریکی سیاستدانوں کو اسرائیل کا حامی بنانے کے لیے رقوم فراہم کرتا ہے۔

اُن کے کلمات پر بہت زیادہ تنقید کے بعد، عمر نے پیر کے روز کہا کہ ’’یہودیوں کی مخالفت کا معاملہ حقیقت پر مبنی ہے، اور میں یہودی اتحادیوں اور اپنے ساتھیوں کی شکر گزار ہوں جو مجھے یہودیوں کے خلاف تکلیف دہ تاریخ کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔ میرا ہرگز یہ مقصد نہیں تھا کہ میں اپنے حلقے کے لوگوں یا مجموعی طور پر امریکی یہودیوں کی دل آزاری کروں۔ تنقید کے بعد ہمیشہ ہمیں اپنے الفاظ کو واپس لینا چاہیئے، جیسا کہ میں خود چاہوں گی کہ لوگ مجھے سنیں جب کبھی میری شناخت کی وجہ سے دیگر لوگ مجھ پر حملہ کرتے ہیں۔ اس لیے میں واضح طور پر معذرت خواہ ہوں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG