رسائی کے لنکس

logo-print

آبنائے ہرمز: امریکی بحری جہاز کا ایرانی کشتیوں پر انتباہی فائر


فائل

ایک دفاعی اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، پیر کی علی الصبح ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’پاسدارانِ انقلاب کی محافظ کور‘ سے تعلق رکھنے والی چار لڑاکا کشتیاں آبنائے ہرمز میں موجود ’یو ایس ایس ماہان‘ کے پاس سے ’’انتہائی تیز رفتاری سے‘‘ گزریں

پینٹاگان کے ترجمان، کیپٹن جیف ڈیوس نے بتایا ہے کہ ایک امریکی بحری جہاز نے ’آبنائے ہرمز‘ میں ایرانی لڑاکا کشتیوں پر تین بار انتباہی فائر کیا۔

ایک دفاعی اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، پیر کی علی الصبح ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ پاسدارانِ انقلاب کی محافظ کور سے تعلق رکھنے والی چار لڑاکا کشتیاں آبنائے ہرمز میں موجود ’یو ایس ایس ماہان‘ کے پاس سے ’’انتہائی تیز رفتاری سے‘‘ گزریں۔

اہل کار نے کہا کہ عملے نے اپنی شناخت امریکی بحریہ کے طور پر کرائی اور ’’متعدد بار یہ بات دہرائی‘‘ کہ اِن بحری کشتیوں کو واپس جانا چاہیئے، یا پھر ’’ہم دفاعی اقدام کرنے پر مجبور ہوں گے‘‘۔

کیپٹن ڈیوس نے کہا کہ ’یو ایس ایس ماہان‘ کے عملے نے بلند آواز والے سائرن استعمال کیے اور ریڈیو وارننگ جاری کی۔

ڈیوس نے کہا کہ ’’یہ ایک غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ طرز عمل تھا‘‘، اور یہ کہ ’’یہ اس باعث ہوا چونکہ وہ انتہائی تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہے تھے، مسلح تھے، اور بارہا متنبہ کیے جانے کے باوجود بے پرواہ تھے‘‘۔

جب ایرانی لڑاکا کشتیوں نے رفتار کم کرنے کی ریڈیو درخواست پر عمل نہ کیا، تو ’یو ایس ایس ماہان‘ نے پوائنٹ 50 کیلبر کی مشین گن سے فائر کیا۔

دفاعی اہل کار نے بتایا کہ ’’جونہی عملے نے فائر شاٹس دیں، چھوٹی ایرانی کشتیاں رکیں اور امریکی بحری جہاز اپنے راستے پر روانہ ہوا‘‘۔

ڈیوس کے مطابق، ’’ایرانی کشتیاں ’یو ایس ایس ماہان‘ کے تقریباً 825 میٹر تک قریب آچکی تھیں‘‘۔
جس وقت یہ واقعہ پیش آیا، امریکی بحری بیڑا ’یو ایس ایس مکین آئی لینڈ‘ اور ’یو ایس این ایس والٹر ایس ڈئیل‘ (جو کہ تیل کی رسد کا جہاز ہے) کے ساتھ تھا۔

ایک دفاعی اہل کار نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ امریکہ، ایران اور دیگر ملکوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ آبی قوانین کے تحت، معیاری ضابطوں پر عمل پیرا ہوں۔

XS
SM
MD
LG