رسائی کے لنکس

امریکہ کی شمالی کوریا کو کسی شرط کے بغیر مذاکرات کی دعوت


امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے منگل کے روز شمالی کوریا کے حوالے سے یہ کہتے ہوئے ایک مختلف موقف اپنایا کہ امریکہ پیانگ یانگ کے ساتھ پیشگی شرائط کے بغیر پہلی میٹنگ کے لیے تیار ہے لیکن انہوں نے کہا کہ مذاکرات پوری طرح سے شروع ہونے سے قبل اضافی جوہری یا میزائل کے تجربات کے بغیر پرسکون دورانئے کو یقینی بنانا ہو گا۔

منگل کے روز امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن واشنگٹن میں کوریا کے بارے اٹلانٹک کونسل کے ایک فورم سے ایک خطاب کے دوران شمالی کوریا کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام اور میزائل کے تجربات پر تعطل کے حل کے لیےنئی امیدیں باندھتے نظر آئے

ان کا کہنا تھا کہ ا س لیے ہمیں ضرورت ہے کہ شمالی کوریا مذاكرات کے لیے میز پر آئے۔ ہم کسی بھی وقت جب وہ پسند کریں گے مذاكرات کے لیے تیار ہیں۔ لیکن انہیں مذاكرات کی میز پر آنا چاہیے اور انہیں اس خیال کے ساتھ میز پر آنا چاہیے کہ وہ کوئی مختلف راستہ اپنانا چاہتے ہیں ۔ اسی دوران ہماری فوج بھر پور طریقے سے تیار رہے گی ۔ اس صورت حال کی وجہ سے صدر ہماری فوج کے منصوبہ سازوں کو حکم دے چکے ہیں کہ وہ تمام امکانی مصارف دستیاب رکھیں اور تیار رہیں ۔ جیسا کہ میں بہت بار لوگوں کو بتا چکا ہوں کہ میں پہلے بم کے گرنے تک سفارتی کوششیں جاری رکھوں گا۔

شمالی کوریا حالیہ مہینوں میں بالسٹک میزائل کے سلسلے وار تجربات کر چکا ہے جن میں نومبر کے آخر کا وہ تجربہ شامل ہے جس کے بارے میں پیانگ یانگ کا دعویٰ ہے کہ وہ اب پورے امریکہ کو اپنی رینج میں رکھ سکتا ہے۔ جس سے جزیرہ نما کوریا میں کسی بحرانی جوہری تصادم کے امکان کے خدشات سر اٹھا رہے ہیں ۔ٹلرسن نے واضح کر دیا کہ مذاکرا ت صرف اس صورت میں شروع ہو سکتے ہیں جب میزائل کے تجربات روک دیے جائیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہم ان کے ساتھ پہلی میٹنگ کسی پیشگی شرط کے بغیر کرنے کو تیار ہیں ۔ اگر ا س حوالے سے کوئی شرط ہے تو وہ یہ کہ اگر ہمارے مذاكرات کے دوران آپ کسی دوسرے ہتھیار کا تجربہ کرنے کا فیصلہ کریں گے تو مذاكرات مشکل ہو جائیں گے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ انہیں واضح طور پر سمجھنا چاہیے کہ اگر ہم مذاكرات کریں گے تو ہمیں لازمی طور پر ایک پرسکون دورانیہ چاہیے ہو گا۔

ٹلرسن نے اپنی اس توجیح کے باوجود جسے وہ پر امن دباؤ کہتے ہیں ، کہا کہ سخت پابندیاں اور دوسرے اقدامات بہر طور کامیاب ہو سکتے ہیں کیوں کہ امریکی فوج سفارتی ناکامی کی صورت میں کسی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ چین پہلے ہی شمالی کوریا میں عدم استحكام کی صورت میں شمالی کوریا کے پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد کی آمد کے امکان کے لیے تیار ہونے کی غرض سے پہلے ہی اقدامات کررہا ہے۔

ٹلرسن نے یہ بھی کہا کہ صدر یہ بھی دیکھنا چاہیں گے کہ چین شمالی کوریا کے لیے تیل کی فراہمی منقطع کر دے اور یہ کہ شمالی کوریا آخری بار مذاکرا ت کی میز پر اس لیے آیا تھا کہ چین نے پیانگ یانگ کو تیل کی فراہمی روک دی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG