رسائی کے لنکس

مشترکہ مشقوں سے پہلے، شمالی کوریا میزائل تجربہ کر سکتا ہے: رپورٹیں


جنوبی کوریا اور جاپان سے ملنے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ریڈار اور ریڈیو سگنلوں سے پتا چلتا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ شمالی کوریا ایک اور میزائل تجربے کی تیاری کر رہا ہو

جزیرہ نما کوریا میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ نظر آ رہا ہے، ایسے میں جب یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں سے پہلے، شمالی کوریا ایک اور میزائل تجربے کی تیاری کر رہا ہو۔

جنوبی کوریا اور جاپان سے ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ریڈار اور ریڈیو سگنلوں سے پتا چلتا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ شمالی کوریا ایک اور میزائل تجربے کی تیاری کر رہا ہو۔

منگل کو ہونے والی ایک بریفنگ کے دوران، جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ ترجمان، نوہ کیو ڈوک نے میزائل ٹیسٹ کے کسی تجربے کی تصدیق کرنے سے احتراز کیا، لیکن اُنھوں نے کہا کہ اُن کا ملک خبردار و چوکنہ ہے۔

نوہ نے کہا کہ ’’اپنے اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعاون برقرار رکھتے ہوئے، جن میں امریکہ اور جاپان شامل ہیں، ہماری حکومت شمالی کوریا کی جانب سے کسی اشتعال کے امکان پر دھیان مبذول کیے ہوئے ہے، ساتھ ہی ہم ہمہ وقت تیار ہیں‘‘۔

یہ رپورٹیں ایسے میں مل رہی ہیں جب امریکہ اور جنوبی کوریا چار سے آٹھ دسمبر تک پانچ روزہ مشترکہ مشقوں کی تیاری کر رہے ہیں، جنھیں ’وجیلنٹ ایس‘ کا نام دیا گیا ہے، جس میں ہزاروں فوجی اہل کار اور 230 سے زائد طیارے، جن میں چھ ایف 22 ریپٹر فائٹر جیٹ طیارے بھی شامل ہوں گے، جنھیں پہلی بار جنوبی کوریا میں تعینات کیا گیا ہے۔

عام طور پر شمالی کوریا ایسی فوجی مشقوں کی مذمت کرتا ہے، جن بیانات میں اشتعال انگیز زبان اور جنگی دھمکیاں شامل ہوتی ہیں۔

شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام کے تعطل کے بارے میں روسی ایلچی نے کہا ہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشقیں شمالی کوریا کی جانب سے براہِ راست مذاکرات کی راہ میں حائل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG