رسائی کے لنکس

ریاست ورجینیا کے نرسنگ ہوم میں کرونا وائرس سے 45 اموات


فائل

بہت سے لوگ ہوں، مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوں اور مل کر رہتے ہوں۔ وائرس اس سے بڑھ کر کچھ نہیں چاہتا۔

یہ الفاظ ہیں ڈاکٹر جم رائٹ کے، جو امریکی ریاست ورجینیا کے شہر رچمنڈ میں ایک نرسنگ ہوم کے میڈیکل ڈائریکٹر ہیں۔

اس نرسنگ ہوم کا نام 'کینٹربری ری ہیبیلی ٹیشن اینڈ ہیلتھ کئیر سینٹر' ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس مرکز کے 160 میں سے 45 رہائشی کرونا وائرس کا شکار ہو کر چل بسے ہیں، جب کہ مزید درجنوں کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

امریکہ میں کرونا وائرس رچمنڈ سے ہزاروں میل دور ریاست واشنگٹن سے پھیلنا شروع ہوا تھا اور کرک لینڈ کا 'لائف کئیر نرسنگ ہوم' اس کا پہلا نشانہ تھا۔ لیکن وہاں 43 یعنی رچمنڈ سے کم اموات ہوئی تھیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کینٹربری امریکہ میں سب سے زیادہ ہلاکتوں والا نرسنگ ہوم بن گیا ہے۔

کینٹربری کے نرسنگ ہوم میں وائرس پھیلنے کی کئی وجوہ موجود تھیں۔ ظاہر ہے کہ وہاں عمر رسیدہ افراد رہتے ہیں جو پہلے ہی کئی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ ایک کمرے میں تین تین افراد کو رکھا گیا تھا۔ نرسیں کم تھیں۔ طبی سہولتیں اور سامان ناکافی تھا۔ پہلے کیس سے پہلے ہی عملے کو علم تھا کہ یہ سب کچھ ہو سکتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، امریکہ بھر میں کم از کم ڈھائی ہزار نرسنگ ہوم یا عمر رسیدہ افراد کے مراکز ایسے ہیں جہاں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آچکے ہیں۔ ان میں قیام پذیر افراد اور عملے کے 21 ہزار ارکان میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ان میں سے 3800 ہلاک ہوچکے ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا ابھی نامکمل ہے، کیونکہ کئی ریاستوں، کاؤنٹیز اور نرسنگ ہومز نے رابطہ کرنے پر اعداد و شمار بتانے سے انکار کر دیا تھا۔ جن مقامات کا ڈیٹا مل سکا، ان سے پتا چلا کہ وائرس کے بدترین 10 گڑھ اصل میں نرسنگ ہوم ہیں۔

کینٹربری میں 45 اور کرک لینڈ میں 43 ہلاکتوں کے علاوہ ہولی اوک کے سولجرز ہوم میں 36 اموات ہوچکی ہیں۔ میساچوسیٹس، انڈیانا اور میری لینڈ کے مزید مراکز میں بیس بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ریاست نیویارک میں کرونا وائرس سے 2700 یعنی ایک چوتھائی اموات نرسنگ ہومز ہی میں ہوئی ہیں۔ ان مراکز کو ریفریجریٹر ٹرکس منگوانے پڑے جہاں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں رکھنا پڑیں، کیونکہ مردہ خانوں یا فیونرل ہومز میں جگہ نہیں تھی۔

نرسنگ ہوم میں موجود افراد کے رشتے دار اس بات پر پریشان اور ناراض ہیں کہ انھیں درست صورتحال نہیں بتائی جا رہی۔ 13 مارچ کے بعد ملاقات کرنے والوں کے آنے پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔ لوگ یہ سوچ سوچ کر ہول رہے ہیں کہ ان کے پیارے زندہ بھی ہیں یا نہیں اور زندہ ہیں تو کس حال میں ہیں۔

نرسنگ ہومز میں عملے کے لیے حفاظتی سامان کی بھی کمی ہے۔ کینٹربری کے ڈاکٹر جم رائٹ کے مطابق، ان کے عملے کے پاس کافی تعداد میں گاؤن تک نہیں ہیں۔ عملہ ایک مریض کو دیکھنے کے لیے ایک گاؤن دوبارہ استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ اب تک عملے کے 20 افراد وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

کرونا وائرس سے صرف امریکہ نہیں، یورپ کے نرسنگ ہومز میں بھی بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں۔ فرانس کو نرسنگ ہومز کا ڈیٹا ملنے پر کئی بار کیسز اور اموات کے اعداد و شمار میں تبدیلی کرنا پڑی ہے، جبکہ برطانیہ میں ابھی تک نرسنگ ہومز میں ہونے والے جانی نقصان کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG