رسائی کے لنکس

صدر ٹرمپ کا عالمی ادارۂ صحت کی امداد روکنے کا اعلان


صدر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ڈبلیو ایچ او کی نااہلی کی وجہ سے دنیا میں کرونا وائرس کے کیسز 20 گنا بڑھے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کو امریکہ کی جانب سے دی جانے والی امداد روکنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث بحران میں عالمی ادارے نے انتہائی بدنظمی کا مظاہرہ کیا اور اس کے پھیلاؤ کو چھپایا۔

منگل کو وائٹ ہاؤس میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ڈبلیو ایچ او کی نااہلی کی وجہ سے دنیا میں کرونا وائرس کے کیسز 20 گنا بڑھ گئے ہیں۔ ادارہ اپنی بنیادی ذمے داری انجام دینے میں ناکام رہا اور اس لیے اس کا احتساب ہونا چاہیے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او نے چین پر سفری پابندیاں لگانے پر انہیں بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

رواں سال فروری تک ڈبلیو ایچ او کا موقف تھا کہ جن ملکوں میں کرونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، ان پر سفری پابندیاں لگانے کی ضرورت نہیں اور ایسا کرنا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کا مؤثر طریقہ نہیں ہے۔

منگل کو نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عالمی ادارے نے چین کی یقین دہانیوں کو تسلیم کیا اور نہ صرف چینی حکومت کے اقدامات کا دفاع کیا بلکہ اس کی نام نہاد شفافیت کی تعریف بھی کی۔

یاد رہے کہ امریکہ ہر سال ڈبلیو ایچ او کو 50 کروڑ ڈالر امداد فراہم کرتا ہے جو ادارے کے کل بجٹ کا 15 فی صد ہے۔

نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ڈبلیو ایچ او کی امداد روک کر اس رقم کو ان مقامات پر خود خرچ کریں گے جہاں اس کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ الزام عائد کر چکے ہیں کہ ڈبلیو ایچ او نے غلط معلومات فراہم کیں اور اس کا جھکاؤ چین کی جانب ہے۔ البتہ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس گیبریاسس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ عالمی ادارۂ صحت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق تمام ملکوں کو تازہ ترین اعداد و شمار، درست معلومات اور شواہد فراہم کیے تھے۔

'یہ وقت امداد کی کٹوتی کا نہیں'

صدر ٹرمپ کی جانب سے امداد روکنے کے اعلان کے بعد اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

عالمی ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ یہ وہ وقت نہیں جس میں عالمی ادارۂ صحت کے وسائل میں کٹوتی کی جائے۔

ان کے بقول کرونا وائرس کا پھیلاؤ اور اس کے اثرات پر قابو پانے کے لیے بین الاقوامی برادری کو متحد ہو کر ایک دوسرے سے تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن نے کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی ڈبلیو ایچ او پر کی گئی تنقید سے کسی حد تک متفق ہیں۔

آسٹریلین ریڈیو اسٹیشن سے بات کرتے ہوئے موریسن کا کہنا تھا کہ چین کے شہر ووہان کی اس گوشت مارکیٹ کو دوبارہ کھولنا ناقابلِ فہم ہے جہاں سے گزشتہ برس کے اواخر میں وائرس نے جنم لیا تھا۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کو خود بھی اس تنقید کا سامنا ہے کہ انہوں نے کرونا وائرس کو روکنے کے لیے امریکہ میں جلد اور مؤثر اقدامات نہیں کیے۔

امریکہ میں اب تک وائرس کے چھ لاکھ سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں اور 26 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

صدر ٹرمپ اس تنقید کے جواب میں کہتے ہیں کہ انہوں نے بروقت اقدامات کیے تھے اور چین اور یورپ پر سفری پابندیاں لگانے کی وجہ سے ان پر اس وقت تنقید کی جارہی تھی لیکن انھوں نے وہی فیصلے کیے جن کی ضرورت تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG