رسائی کے لنکس

logo-print

’میموریل ڈے‘، اوباما کا فوجیوں کے اہل خانہ کی مدد پر زور


اوباما کے بقول، ’’ہم اس عمل کا مظاہرہ نہ صرف پرچم کشائی سے کرتے ہیں، لیکن اپنے ہمسایوں کی حالت بہتر بنا کر، نہ صرف خاموشی کے چند لمحات اختیار کرکے بلکہ اپنی ذاتی زندگی میں مواقع، آزادی اور برابری کے اُن جذبات پر عمل پیرا ہوں جن کی سربلندی کے لیے جانیں نثار کی گئیں‘‘

میموریل ڈے کی مناسبت سے پیر کے روز امریکی صدر براک اوباما نے امریکیوں پر زور دیا ہے کہ قوم کے لیے لڑائی میں جان دینے والوں کے اہل خانہ کی مدد کی جائے۔

واشنگٹن سے باہر ’آرلنگٹن نیشنل سمیٹری‘ میں نامعلوم سپاہی کے مقبرے پر پھولوں کی چادر چڑھاتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ ’’قوم کا پتا اس بات سے چلتا ہے کہ وہ کس طرح کے لوگ پیدا کرتی ہے، لیکن اس بات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ کن حضرات کو یاد کرتی ہے‘‘۔

بقول اُن کے، ’’ہم اس عمل کا مظاہرہ نہ صرف پرچم کشائی سے کرتے ہیں، لیکن اپنے ہمسایوں کی حالت بہتر بنا کر، نہ صرف خاموشی کے چند لمحات اختیار کرکے بلکہ اپنی ذاتی زندگی میں مواقع، آزادی اور برابری کے اُن جذبات پر عمل پیرا ہوں جن کی سربلندی کے لیے جانیں نثار کی گئیں‘‘۔

صدر آئندہ جنوری میں اپنی میعاد پوری کر رہے ہیں اور یوں یہ اُن کے دور کی میموریل ڈے کی آخری تقریب تھی۔ اوباما نے اس جانب توجہ دلائی کہ امریکیوں کی ایک فی صد سے کم تعداد فوج میں ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ متعدد لوگ اُن لوگوں سے مانوس نہیں جو امریکی مسلح افواج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ صرف گذشتہ برس افغانستان اور عراق میں امریکی فوج کے 20 سے زائد اہل کار ہلاک ہوئے، جن میں سے اُنھوں نے تین فوجیوں کی لڑائی میں ہلاکت کی خصوصی طور پر نشاندہی کی۔

اوباما نے اس بات کی نشاندہی کی کہ سمیٹری کی قبروں سے طمانیت کا ایک لازوال احساس ابھرتا ہے، جس میں سیکشن 60 بھی شامل ہے جہاں حالیہ برسوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں ہلاک ہونے والے امریکی اہل کار مدفون ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ آرلنگٹن میں، ’’لڑائی کے دوران نہ سنائی دینے والی آواز سے ایک خاموشی نے جنم لیا ہے، جو اِن مقدس پہاڑیوں سے جھلکتی ہے‘‘۔

صدر کے الفاظ میں ’’ہم زندہ لوگ جو آواز رکھتے ہیں، یہ ہماری ذمہ داری ہے، فرض ہے کہ ہم اپنی محبت سے، اپنی مدد اور شکر گزاری سے؛ نہ صرف الفاظ سے بلکہ اپنے اقدام سے اِس خاموشی کو پُر کریں،‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک کے لیے جانیں قربان کرنے والوں کی اصل خدمت تب ہوگی جب اُن کو یاد کیا جائے گا، جس کا مطلب اُن کے والدین، اُن کے جیون ساتھی اور بچوں کی بھلائی کا سوچا جائے گا۔

بقول اُن کے ’’ہم اُن پر فخر کرتے ہیں۔ ہم اُن کی قربانی پر شکرگزار ہیں۔ ہم جان نثار کرنے والوں کے اہل خانہ کے تہ دل سے شکرگزار ہیں‘‘۔

صدر براک اباما نے پیر کے روز قومی سطح پر منائے جانے والے 'میموریل ڈے' کی مناسبت سے ہونے والی کئی تقریبات میں شرکت کی۔

اس دن عام تعطیل ہوتی ہے جب ان مرد و خواتین کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے امریکی فوج میں خدمات انجام دینے کے دوران اپنی جانوں کی قربانی دی۔

صدر اباما نے پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں حاضر اور سابق فوجی اہلکاروں کے گروپ اور اعلیٰ فوجی رہنماؤں کے لیے ناشتے کا اہتمام کیا۔

اوباما نے اپنے ہفتہ وار خطاب میں کہا تھا کہ "جان کا نذرانہ دینے والے ہمارے ہیروز کا جو ہم پر قرض ہے وہ ہم کبھی بھی صحیح معنوں میں ادا نہیں کر سکتے۔"

اس دن کو جسے پہلے ’ڈیکوریشن ڈے‘ کہا جاتا تھا، پہلی بار 1868ء میں تین سال قبل ختم ہونے والی امریکہ کی ہلاکت خیز خانہ جنگی کے بعد آرلنگٹن کے قبرستان میں منایا گیا تھا۔ اس جنگ میں 600,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

میموریل ڈے کے موقع پر ہفتہ اتوار اور پیر تین دن کی تعطیل کو گرمیوں کی تعطیلات کا غیر سرکاری آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران، کئی امریکی شہری اپنے دفتر اور اسکول سے چھٹی کرتے ہیں اور کئی ایک خاندان پکنک مناتے ہیں یا ساحل سمندر اور پارکوں میں یہ دن گزارتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG