رسائی کے لنکس

logo-print

اپنے عزائم میں داعش اور القاعدہ اب بھی پختہ: امریکی اہلکار


رقہ، شام (فائل)

انسداد دہشت گردی سے وابستہ امریکی اہلکاروں نے کہا ہے کہ داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروہوں سے لڑائی اور اُن کے زیر قبضہ علاقے واگزار کرانے کے سلسلے میں اہم پیش رفت حاصل ہونے کے باوجود، دہشت گردی کی صورت حال پیچیدہ تر ہو گئی ہے۔

دہشت گردی کی روکتھام پر مامور امریکی رابطہ کار، نتھن سیلز نے بدھ کے روز بتایا کہ ’’دولت اسلامیہ، القاعدہ اور اُن کے دیگر دھڑے پُرعزم، لچکدار اور نئے حالات میں ڈھل جانے کی قوت رکھتے ہیں‘‘۔ اُنھوں نے دولت اسلامیہ کے لیے داعش کا نام استعمال کیا۔

بقول اُن کے، ’’اُنھوں نے عراق، شام، صومالیہ اور دیگر مقامات پر انسداد دہشت گردی کا شدید دباؤ برداشت کر لیا ہے‘‘۔

سیلز نے یہ بیان محکمہٴ خارجہ کی جانب سے دہشت گردی کے بارے میں 2017 کی تمام ملکوں سے متعلق رپورٹوں کے اجرا کے موقعے پر اخباری نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ داعش اور القاعدہ مزید منتشر ہو چکی ہیں، اب وہ اپنے دور دیس میں اپنے ماننے والوں کو حملوں کی ترغیب دینے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں، تاکہ وہ روایتی فوجی اقدام کی پکڑ میں آنے سے بچے رہیں۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ برس داعش نے زیر قبضہ علاقہ خالی کیا، وہ مرکزی کمان کھو چکے ہیں اور دنیا بھر میں اپنے ہمدردوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ جو ہتھیار اُن کے پاس ہیں وہ نام نہاد ’’نرم اہداف‘‘ کے خلاف استعمال کریں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2017ء میں اس طرح کے حملے مانچیسٹر، بارسلونا، وادی سینا، مراوی، نیویارک سٹی اور دیگر مقامات پر کیے گئے۔

لڑائی میں پیش رفت کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے، سیلز نے کہا کہ ایسے میں جب دہشت گرد گروپ زیادہ لکچدار انداز اپنائے ہوئے ہیں، امریکہ اور اُس کے اتحادی اس بات کے کوشاں ہیں کہ سکیورٹی سے متعلق اطلاعات کی شراکت وسیع کی جائے، شہری ہوابازی کی سکیورٹی بہتر بنائی جائے اور قانون کے نفاذ کی استعداد کو فروغ ملے۔

انسداد دہشت گردی پر مامور امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ عراق اور شام میں داعش کے لڑاکوں سے اُن کے زیر قبضہ تقریباً تمام علاقہ خالی کرایا گیا ہے، جب کہ القاعدہ پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔

سال 2017میں دنیا بھر میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 23 فی صد کمی واقع ہوئی جب کہ دہشت گردی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی کُل تعداد میں 27 فی صد کی کمی آئی۔

سیلز نے کہا کہ اِس کی اہم وجہ دہشت گرد حملوں میں آنے والی کمی ہے، جب کہ عراق میں ہلاکتیں بہت کم ہوگئی ہیں۔

تاہم، سیلز نے کہا کہ ایک ملک ایسا بھی ہے جو دہشت گردی کی حمایت کے معاملے میں دوسروں سے کہیں آگے ہے۔

سیلز نے بدھ کے روز اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’ایران دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا دنیا کا سرکردہ ملک ہے، وہ کئی تنازعات میں شدت پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے اور شام، یمن، عراق اور بحرین، افغانستان اور لبنان میں امریکی مفادات کو ٹھیس پہنچانے میں پیش پیش ہے؛ جہاں وہ دوسروں کے لبادے میں کئی لڑائیاں لڑ رہا ہے، جیسا کہ لبنانی حزب اللہ اور پاسداران انقلاب کا سپاہ قدس‘‘۔

سیلز نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ ماضی کے برعکس القاعدہ پر دھیان زیادہ تر مبذول نہیں رہا، جب کہ یہ دہشت گرد گروپ اپنی تعداد میں اضافہ لا رہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’القاعدہ ایک پُرعزم اور دھیرج کے انداز پر عمل پیرا دشمن ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران وہ اخبارات کی جَلّی سرخیوں میں نمایاں نہیں رہا، چونکہ وہ یہی چاہتا ہے کہ داعش بین الاقوامی کارروائیوں کا مرکز بنی رہے۔ تاہم، ہمیں القاعدہ کے خاموشی اپنانے کے حربوں کا غلط اندازہ نہیں کرنا چاہیئے، جو بظاہر اپنی صلاحیتوں میں ٹھہراؤ پر عمل پیرا ہے یا پھر اُس کے عزائم یہ ہیں کہ وہ امریکہ یا ہمارے اتحادیوں کو ہدف بنائے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG