رسائی کے لنکس

logo-print

'افغان طالبان کے خلاف پاکستان کی کارروائی کے منتظر ہیں'


رواں ہفتے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران ایلس ویلز نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی تھی۔

اپنی گفتگو میں ایلس ویلز نے افغانستان کے ساتھ دو طرقہ تعلقات بہتر بنانے کی پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔ لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغان طالبان کے خلاف "مسلسل اور سخت" کارروائی کرنی ہوگی۔

امریکہ کی ایک سینئر سفارت کار نے ایک بار پھر اپنی سرزمین پر سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کے وعدوں پر عمل درآمد میں ناکامی پر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکہ کی نائب معاون وزیرِ خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور ایلس ویلز نے یہ تنقید اسلام آباد کے دورے سے واپسی کے بعد جمعرات کو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔

اپنی گفتگو میں ایلس ویلز نے افغانستان کے ساتھ دو طرقہ تعلقات بہتر بنانے کی پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔

لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغان طالبان کے خلاف "مسلسل اور سخت" کارروائی کرنی ہوگی۔

ان کے بقول، "ہم اصل میں چاہتے ہیں کہ طالبان کی قیادت کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے سخت اور مسلسل اقدامات کیے جائیں اور دراصل یہ اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے ہی صدر [ٹرمپ] نے جنوری میں [پاکستان کی] فوجی معاونت معطل کی تھی۔"

ایلس ویلز نے حال ہی میں افغانستان اور پاکستان کا دورہ کیا تھا اور اسلام آباد میں اپنے قیام کے دوران پاکستانی کی سیاسی اور فوجی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کی تھیں۔

ایلس ویلز نے اسلام آباد میں اپنی موجودگی کے دوران بھی یہ کہا تھا کہ پاکستان کو افغان طالبان پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں۔

ایلس ویلز کے اس بیان پر جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے کہا تھا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا صرف پاکستان کی ہی ذمہ داری نہیں ہے۔

ایلس ویلز کےبیان سے متعلق پوچھے جانے والے ایک سوال پر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان بارہا کہہ چکا ہے کہ اس معاملے پر افغانستان کے مسئلے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں اور پاکستان اپنے حصے کا کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کےطالبان قیادت کے ساتھ تعلقات کی نوعیت تبدیل ہوچکی ہے اور وہ اب ان پر دباؤ ڈالنے کے قابل نہیں کیوں کہ طالبان اب اپنے آپریشنز افغانستان میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے ہی چلاتے ہیں۔

لیکن افغانستان اور امریکہ، پاکستان کا یہ مؤقف تسلیم نہیں کرتے۔

جمعرات کو صحافیوں کے ساتھ اپنی گفتگو میں ایلس ویلز کا مزید کہنا تھا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ بامعنی سیاسی مذاکرات کی راہ میں طالبان کی قیادت رکاوٹ ہے جس کے بیشتر ارکان ان کے بقول افغانستان سے باہر رہتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ غیر ملکی اور افغان فوج کی کارروائیوں کے دباؤ سے آزاد ہیں۔

ایلس ویلز کا اشارہ امریکہ اور افغان قیادت کے اس دیرینہ الزام کی جانب تھا کہ افغان طالبان کی بیشتر قیادت پاکستانی علاقوں میں مقیم ہے جو وہیں سے افغانستان میں سرگرم اپنے جنگجووں کوہدایات جاری کرتی ہے۔

ایلس ویلز نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق نئی حکمتِ عملی موثر ثابت ہورہی ہے اور اس سے خطے کے حالات میں فرق پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت افغانستان کی سکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں میں اضافہ کرکے طالبان پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے اور ان پر واضح کردیا گیا ہے کہ افغانستان میں ان کی فتح کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت پر تبصرہ کرتے ہوئےا یلس ویلز نے کہا کہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں بہتری کے لیے صحیح اقدامات اٹھانا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کا معیار دونوں ملکوں کے مل کر کام کرنے کے معیار پر منحصر ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG