رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: اموات کے باوجود موسم گرما تک معمولات زندگی بحال ہونے کی اُمید


(فائل فوٹو)

امریکہ میں کرونا وائرس کے باعث ہلاکتوں میں مسلسل اضافے کے باوجود محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اسپتال آنے والے مریضوں کی تعداد میں کمی سے وبا پر قابو پانے کی امید نظر آ رہی ہے۔ طبی ماہرین موسم گرما تک امریکہ میں معمولات زندگی بحال ہونے کی نوید بھی سنا رہے ہیں۔

کرونا وائرس کے باعث بے روزگاری میں اضافے اور معاشی نقصان کی وجہ سے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سماجی پابندیاں ہٹانا چاہتے ہیں۔ تاکہ امریکہ میں کاروبارِ زندگی جلد سے جلد دوبارہ بحال ہو سکے۔

امریکی صدر نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ تاریک سرنگ کے دوسری طرف روشنی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے امریکہ میں کیے گئے اقدامات سے اس مہلک وائرس سے متاثرہ مریضوں کی اسپتالوں میں داخلے کی تعداد میں کمی دیکھی جارہی ہے۔

امریکہ میں جمعرات کو کرونا وائرس کے باعث 1783 ہلاکتیں ہوئیں۔ جو بدھ کو ہونے والی ہلاکتوں سے 190 کم ہیں۔

امریکہ میں اب تک کرونا وائرس سے ہلاکتیں 16 ہزار سے بڑھ چکی ہیں۔ جو پوری دنیا میں یورپی ملک اٹلی کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔ امریکہ میں اس مہلک وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ 460000 ہے۔

دوسری طرف کرونا وائرس کے سبب بیروزگاری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مارچ کے وسط سے کیے جانے والے لاک ڈاؤن کے بعد سے اب تک ایک کروڑ ستر لاکھ افراد بیروزگار ہو چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے وبائی امراض کے مشیر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے خبردار کیا ہے کہ سماجی پابندیاں عجلت میں نہیں ہٹائی جا سکتیں۔ البتہ اُن کا کہنا تھا کہ موسم گرما تک امریکہ میں معمولات زندگی بحال ہو جائیں گے۔ لیکن اس کے لیے امریکیوں کو سماجی پابندیوں پر مکمل عمل درآمد کرنا ہو گا۔

امریکی ٹی وی 'سی بی ایس' کو دیے گئے انٹرویو کے دوران جب ڈاکٹر فاؤچی سے پوچھا گیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موسم گرما میں تعطیلات ہوں گی۔ بیس بال کے میچز، شادیاں اور خاندانی تقریبات منعقد کی جا سکیں گی؟ تو ڈاکٹر فاؤچی کا جواب تھا کہ یہ سب کچھ ممکن ہے۔

کرونا وائرس سے نیو یارک سب سے زیادہ متاثر

وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کے یہ تاثرات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ریاست نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو بھی ایسی ہی اُمید کا اظہار کر چکے ہیں۔ نیویارک امریکہ میں وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز ہے اور مجموعی ہلاکتوں کا نصف یہاں ہوئی ہیں۔

گورنر اینڈریو کومو کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نیو یارک میں کرونا وائرس سے 799 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ جس کے بعد ریاست میں مجموعی ہلاکتیں 7000 سے بڑھ گئی ہیں۔

نیو یارک شہر کے میئر بل ڈی بلاسیو نے خبردار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کرونا وائرس کےپھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ کردہ پابندیاں ماہ جون تک برقرار رہیں۔ (فائل فوٹو)
نیو یارک شہر کے میئر بل ڈی بلاسیو نے خبردار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کرونا وائرس کےپھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ کردہ پابندیاں ماہ جون تک برقرار رہیں۔ (فائل فوٹو)

ان کا مزید کہنا تھا کہ سماجی دوری کی وجہ سے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کے دوران کومو کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد میں کمی دیکھی جارہی ہے۔ انتہائی نگہداشت وارڈز میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔

نیو یارک میں نافذ کردہ پابندیوں کو رواں ماہ 29 اپریل تک بڑھاتے ہوئے کومو کا کہنا تھا کہ وہ ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے کہ اگلے چار یا پانچ ہفتوں کے بعد کیا حالات ہوں گے۔

نیویارک سٹی کے میئر بل ڈی بلاسیو نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے پابندیاں جون تک برقرار رہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ذیلی ادارے 'آئی ایچ ایم ای' نے حالیہ دنوں میں کرونا سے متوقع ہلاکتوں کی تعداد 93000 اس کے بعد 82000 اور اب 60000 ہزاروں ہلاکتوں کا تخمینہ لگایا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے ایسٹر تک اس وبا کا عروج ہو گا، جس کے بعد اس کی شدت میں بتدریج کمی ہو گی۔

امریکی سرجن جنرل جیروم ایڈمز نے امریکی نشریاتی ادارے ‘سی بی ایس’ سے گفتگو میں بتایا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی ہورہی ہے اور اگلے 30 دن انتہائی اہم ہیں۔

ایڈمز کا مزید کہنا تھا کہ معمولات زندگی کی طرف لوٹنے سے پہلے امریکہ میں کرونا وائرس کو قابو میں رکھنے کے لیے امریکیوں کو نئے معمولات زندگی کی تیاری کرنا ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG