رسائی کے لنکس

نیو یارک میں مسلسل دوسرے روز ریکارڈ ہلاکتیں، طبی عملہ بھی پریشان


فائل فوٹو

امریکہ کی ریاست نیو یارک میں مسلسل دوسرے روز ریکارڈ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے، کرونا وائرس کے تیز پھیلاؤ اور مریضوں کی حالت بگڑنے کی رفتار سے ڈاکٹرز اور طبی عملہ بھی پریشان ہے۔

نیو یارک کو کرونا وائرس کا نیا مرکز قرار دیا جا رہا ہے جہاں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ بدھ کو مزید 779 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ جو ریاست میں یومیہ ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ گزشتہ دو روز سے نیو یارک میں مسلسل ریکارڈ یومیہ ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔

انتظامیہ نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ سرکاری تعداد میں وہ لوگ شامل نہیں ہیں جن کی موت گھروں میں ہی ہوئی ہو۔

حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم 200 افراد روزانہ اپنے گھروں میں ہی انتقال کر رہے ہیں جن میں سے بڑی تعداد کرونا وائرس کے مریضوں کی بھی ہو سکتی ہے۔

نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو نے بھی نیوز بریفنگ کے دوران کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی اصل تعداد زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

اینڈریو کومو نے کہا کہ بدھ کو ریاست میں 779 افراد ہلاک ہوئے ہیں جو کرونا وائرس سے یومیہ ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

نیو جرسی میں بھی کرونا وائرس سے ریکارڈ 275 یومیہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

سماجی فاصلے کے ساتھ موسیقی کی محفلیں
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:49 0:00

ہلاکتوں میں گزشتہ دو روز سے ریکارڈ اضافے کے باوجود اینڈریو کومو کا کہنا ہے کہ صورتِ حال بہتر ہو رہی ہے۔

ان کے بقول اسپتالوں میں کرونا وائرس کے نئے مریضوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے جب کہ کرونا وائرس کا اوپر جاتا ہوا گراف سماجی دوری کے باعث اب ایک سطح پر آ گیا ہے۔

ساتھ ہی اینڈیو کومو نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ آئندہ چند روزکے دوران ہلاکتوں کی رفتار برقرار رہنے اور اموات میں اضافے کا بھی امکان ہے۔

ان کے مطابق زیادہ تر ایسے مریض جن کی حالت نازک ہے یا جو وینٹی لیٹرز پر ہیں وہ بچ نہیں سکیں گے۔

نیو یارک امریکہ کی ان 42 ریاستوں میں شامل ہے جن کے گورنروں نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کے احکامات جاری کیے ہیں اور تمام غیر اہم کاروبار بند کرا دیے ہیں۔

امریکہ میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں میں اضافے اور مریضوں کی تیزی سے بگڑتی حالت پر ڈاکٹر اور نرسیں بھی پریشان ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ مریضوں کے علاوہ متعدد نوجوان بھی ایسے سامنے آئے ہیں جن کی حالت پہلے بالکل ٹھیک تھی اور کچھ لمحوں بعد ان کی طبیعت اس قدر خراب ہو چکی تھی کہ وہ موت کہ منہ میں دکھائی دے رہے تھے۔

ایتھوپین مسیحیوں کا دعائیہ جلوس
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:02 0:00

نیو یارک شہر کے ماؤنٹ سینائی اسپتال میں کام کرنے والی ایک نرس ڈیانا ٹورس نے کہا کہ مریض بالکل ٹھیک نظر آ رہے ہوتے ہیں اور وہ اپنی طبیعت بہتر محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن آپ ذرا دیر بعد دوبارہ انہیں دیکھتے ہیں تو ان کی حالت بگڑ چکی ہوتی ہے اور وہ کوئی ردعمل ظاہر کرنے کے قابل بھی نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ میں کرونا وائرس کے مریضوں کے کمرے سے باہر نکلنے سے بھی ڈر رہی ہوں کہ کہیں اس دوران کسی مریض کی حالت نہ بگڑ جائے۔

خیال رہے کہ امریکہ میں بدھ تک کرونا وائرس کے چار لاکھ 30 ہزار سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں جب کہ ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 14 ہزار 700 تک پہنچ گئی ہے۔

حکام نے شہریوں کو تنبیہ کی ہے کہ رواں ہفتے کرونا وائرس سے ملک میں ریکارڈ ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG