رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ نے 40 کروڑ ڈالر کے بدلے چار شہری رہا کرائے تھے: رپورٹ


امریکہ نے یہ نقدی غیر ملکی سکوں میں فراہم کی چونکہ امریکی قانون کے مطابق، ایران کے ساتھ ڈالر میں لین دین غیر قانونی ہے

جنوری میں امریکہ نے ایک طیارے کے ذریعےغیر ملکی کرنسی میں 40 کروڑ ڈالر مالیت کی رقوم ایران کو فراہم کی، تاکہ اسلحے کے ناکام سمجھوتے پر اٹھنے والے عشروں پرانے تنازعہ کا جزوی تصفیہ ہو سکے۔ اُسی روز، ایران نے چار امریکی یرغمالیوں کو رہا کیا۔ تاہم، امریکہ یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تاوان کی ادائگی سے انکار کرتا ہے۔

امریکہ نے یورو، سوس فرینکس اور دیگر کرنسی میں رقوم اکٹھی کیں اور پیٹیوں میں بھر کر طیارے میں ڈالیں۔ یہ رقم مال بردار طیارے کے ذریعے ایران پہنچائی گئی۔

یہ 1.7 ارب ڈالر کے تصفیے کی رقم کی پہلی قسط تھی جو سنہ 1979ء میں ایران کے ساتھ امریکہ کے ناکام اسلحے کی فراہمی کے معاہدے کے بدلے میں تھی، جو ایران کے آخری شہنشاہ، شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے سے کچھ ہی روز پہلے کا معاملہ ہے۔ امریکہ نے یہ نقدی غیر ملکی سکوں میں فراہم کی چونکہ امریکی قانون کے مطابق، ایران کے ساتھ ڈالر میں لین دین غیر قانونی ہے۔

اُسی روز، 17 جنوری 2016ء کو ایران نے چار امریکیوں کو رہا کیا جن میں ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ کے تہران کے بیورو چیف، جیسن رضائیاں؛ میرین ویٹرن امیر حکمتی؛ مسیحی مبلغ سعید عابدینی؛ اور چوتھے شخص نصرت اللہ خسروی ردسری جن کے لاپتا ہونے کا عام لوگوں کو علم نہیں تھا، شامل تھے۔

نقدی میں لین دین اور یرغمالیوں کی رہائی اُسی وقت ہوئی جب امریکہ اور پانچ دیگر عالمی طاقتوں نے جوہری ہتھیاروں کی تشکیل کو ترک کرنے کے معاملے پر ایران کے ساتھ معاہدہ کیا، جب کہ ایران کے خلاف تعزیرات اٹھائی گئیں، جن کی وجہ سے ایران کی معیشت کی حالت خراب ہو چکی تھی۔

اُس وقت صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ ’’جوہری سمجھوتا ہونے سے، قیدی رہا ہوئے، چونکہ اس تنازع کو طے کرنے کے لیے یہی مناسب موقع تھا’’۔ وہ 37 برس پرانے اسلحے کے معاہدے کا ذکر کر رہے تھے، جس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ لیکن، اوباما نے 40 کروڑ ڈالر کی رقم دینے کے معاملے کو ظاہر نہیں کیا، جس حقیقت کو ’دِی وال اسٹریٹ جرنل‘ نے بدھ کے روز شائع کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا۔

ادھر، ایران کے جوہری سمجھوتے کے ناقدین نے رقوم کی ادائگی کی مذمت کی ہے۔ ارکنسا سے ری پبلیکن پارٹی کے سینیٹر ٹوم کاٹن نے اسے ’’آیت اللہ کو امریکی یرغمالیوں کے بدلے1.7 ارب ڈالر تاوان دینے کا عمل‘‘ قرار دیا ہے۔

تاہم، وائٹ ہاؤس کے ترجمان، جوش ارنیسٹ نے کہا ہے کہ ’’امریکہ یرغمال بنائے گئے شہریوں کی رہائی کے بدلے تاوان ادا نہیں کیا، جنھیں ناجائز طور پر ایران میں زیر حراست رکھا گیا تھا‘‘۔

ارنیسٹ نے کہا کہ ’’وہی لوگ یہ دلیل دے رہے ہیں، جنھیں ایران میں دائیں بازو کا، اور (امریکہ میں) ری پبلیکنز کہا جاتا ہے، جو (جوہری) سمجھوتے کو پسند نہیں کرتے‘‘۔

ارنیسٹ نے کہا کہ چونکہ ایران نے بعد میں ناکام ہونے والے سمجھوتے کے لیے امریکہ کو رقوم فراہم کی تھیں، ’’امریکہ کے لیے اس معاملے میں کوئی دلیل دینا مشکل معاملہ تھا کہ ہم نے یہ رقم کیوں رکھی ہوئی ہے‘‘۔

امریکی ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے اُن کی ڈیموکریٹک پارٹی کی مدِ مقابل امیدوار ہیلری کلنٹن پر ادائگی میں ساز باز کا الزام لگایا ہے۔

XS
SM
MD
LG