رسائی کے لنکس

logo-print

وسط مدتی انتخاب کے نتائج اور پاکستان پر اس کے ممکنہ اثرات


وسط مدتی انتخاب کے نتائج اور پاکستان پر اس کے ممکنہ اثرات

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں حزب اختلاف کی ری پبلکن پارٹی کی کامیابی کے بعد امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں بالخصوص اُس کے پاکستان اور افغانستان پر اثرات کے بارے میں سابق سفارت کاروں اور اراکین پارلیمنٹ نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان کے لیے سابق پاکستانی سفیر قاضی ہمایوں کا کہنا ہے کہ انتخابات کے نتائج سے واشنگٹن کی خارجہ پالیسی خاص طور پر پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ امریکہ میں معاشی مسائل میں اضافہ ہوا ہے اور اس تناظر میں فوجی اخراجات پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی جس کے افغانستان میں جاری جنگ پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی پلوشہ بہرام کا کہنا ہے کہ ری پبلکن پارٹی اوباما انتظامیہ پر زور ڈال سکتی ہے کہ پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید اقدامات کرنے کے حوالے سے دباوٴ بڑھایا جائے کیوں کہ وہ ماضی میں بھی ایسا کرتی رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے اعلان کردہ امریکی فوجی امداد میں تبدیلی متوقع نہیں ہے کیوں کہ اُن کے بقول امریکہ جانتا ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ اور اس کے بعد امن کا عمل پاکستان کی امداد کے بغیر پایا تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔

سینٹ میں قائد حزب اختلاف وسیم سجاد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان پر امریکی امداد کے طریقہ استعمال اور ملک کے جوہری پروگرام کے حوالے سے دباوٴ بڑھے گا لیکن اُن کے بقول امریکہ پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز بھی نہیں کر سکتا۔

پاکستان میں سیاست دان اور تجزیہ نگار عمومی طور اس تنقید سے اتفاق نہیں کرتے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششیں ناکافی ہیں کیوں کہ اُن کے بقول اس لڑائی میں اب تک پاکستان نے جو جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے وہ کسی بھی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ ہے اور خود امریکہ بھی اس اعتراف کر تا ہے۔

امریکہ نے حال ہی میں پاکستان کے لیے دو ارب ڈالر کی فوجی امداد کے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کی کانگریس سے منظوری لینا ابھی باقی ہے تاہم اراکین پارلیمنٹ اور سابق سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ امداد کے ساتھ شرائط تو عائد کی جاسکتی ہیں لیکن اُسے روکنا ممکن نہیں ہوگا۔

XS
SM
MD
LG