رسائی کے لنکس

logo-print

افغان امن سجھوتے میں پاکستان کے مفادات کے تحفظ کا وعدہ


امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل ووٹل سینیٹ کی ایک کمیٹی میں بیان دے رہے ہیں۔ فروری 2018

امریکی سینٹرل کمانڈر کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے کہا ہے کہ امریکہ کی جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ مستقبل میں افغانستان سے متعلق کسی بھی امن سمجھوتے کی صورت میں پاکستان کی مفاد کا خیال رکھا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اعلیٰ فوجی کمانڈر کا بیان افغان تنازع کے حل کے لیے پاکستان کے اہم کردارکے تناظر میں اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔

امریکی کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف نے رواں ہفتے سینیٹ کی مسلح افواج سے متعلق کمیٹی میں اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کی جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ افغانستان کے کسی بھی امن سمجھوتہ طے کرتے وقت پاکستان کے مفاد کا خیال رکھا جائے گا۔

جنرل ووٹل نے سینیٹ کے کمیٹی کو رواں ہفتے بتایا کہ ٹرمپ انتطامیہ کی طرف سے پاکستان کی سیکورٹی امداد معطل کرنے کے باوجود اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان کچھ حد تک فوجی تعاون جاری رہا۔

جنرل ووٹل نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ امریکہ کے لیے پاکستان کی اہمیت صرف صرف افغان تنازع کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ان کے بقول ایک جوہری ملک ہونے کے ناطے پاکستان کا محل وقع ایک ایسے خطے میں ہے جہاں روس، چین بھارت اور ایران واقع ہیں اور یہ خطہ جو امریکی مفادات کے لیے بھی اہم ہے۔ جنرل ووٹل کے بقول اس تناظر میں پاکستان امریکہ کے لیے ایک اہم ملک ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے حالیہ برسوں میں امریکہ پاکستان کی بجائے بھارت کے زیادہ قریب ہو گیا تھا، اس تناظر میں جنرل ووٹل کا بیان اہم ہے۔

بین لاقوامی امور کے ماہر اور اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ظفر جسپال نے جمعے کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور روس کے ایک دوسرے کے قریب آنے کی وجہ سے امریکہ بھارت سے خوش نظر نہیں آتا ہے۔

" بھارت اپنی اسٹریٹجک خود مختاری برقرار رکھا چاہتا ہے اور جب سے بھارت نے روس کے ساتھ ایس۔ 400 میزائل کا معاہدہ کیا ہے اور اس کے ساتھ وہ ایران سے بھی تیل خرید رہا ہے، جس پر امریکی کچھ زیادہ خوش نہیں تھے۔ اس لیے وہ بظاہر اب وہ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے ساتھ اپنی پالیسی میں توازن رکھنے کے خواہاں ہیں۔"

تاہم تجزیہ کار ظفر جسپال کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنا پاکستان کے بھی مفاد میں ہے اور ان کے بقول افغان تنازع کے حل ہونے کے بعد اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔

’’میرے خیال میں اسلام آباد اور واشنگٹن میں بھی تعلقات بہتر بنانے کی ایک خواہش موجود ہے۔ دفاعی ساز و سامان کے لیے پاکستان کا انحصار اب امریکہ پر کم ہو رہا ہے اور اس کا حساس اب امریکہ کو ہے۔ اس لیے اب دونوں ملک اپنے تعلقات نئی جہت پر استوار کر سکتے ہیں۔’’

دوسری طرف سلامتی کے امور کے ایک ماہر امجد شعیب کا کہنا ہے افغان تنازع کے پرامن حل کے لیے امریکہ پاکستان کے کردار کو اہم خیال کرتا ہے۔

‘‘ پاکستان، افغانستان میں امن و استحکام دیکھنا چاہتا ہے اور امریکہ بھی وہاں امن قائم کرنا چاہتا ہے تو پھر پاکستان اس کے لیے تعاون کرے گا، کیونکہ افغانستان میں امن دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔’’

اگرچہ پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان براہ راست بات چیت میں کردار ادا کیا ہے تاہم امریکی عہدے دار پاکستان سے مزید ٹھوس اقدامات کی توقع کر رکھتے ہیں تاکہ پاکستان طالبان کو کابل حکومت سے بات چیت پر آمادہ کرنے کے لیے مزید دباؤ اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، تاہم طالبان تاحال کابل حکومت سے بات چیت پر آمادہ نہیں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG