رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کی اقتصادی امداد روکنے کا بل امریکی ایوان نمائندگان میں پیش


کیپیٹل ہل واشنگٹن ڈی سی۔ فائل فوٹو

پاکستان کی اقتصادی امداد روکنے سے متعلق امریکہ کے ایوان نمائندگان میں منگل کے روز ایک بل متعارف کرایا گیا۔ اس سے قبل ایک ایسا ہی بل سینیٹ کے فلور پر بھی پیش کیا جا چکا ہے۔

اکنامک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایوان میں لائے جانے والے بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی غیر فوجی امداد بھی روکی جانی چاہیے اور اس اقدام سے بچنے والے فنڈز امریکہ کے انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر صرف کیے جائیں۔

بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی امداد بند کرنے کا مطالبہ اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان دہشت گردوں کو فوجی امداد اور خفیہ معلومات فراہم کرتا ہے۔

پاکستان اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔

پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ افغانستان میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اس کا الزام پاکستان پر ڈال رہا ہے جہاں وہ بڑھتی ہوئی شورش کو دبانے میں ناکام ہو چکا ہے۔

یہ بل ساؤتھ کیرولائنا کے کانگریس مین مارک سین فورڈ اور کنٹکی کے تھامس مارسی نے پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ، اور بین الاقوامی ترقی کے امریکی ادارے یوایس ایڈ کو امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم پاکستان بھیجنے سے روکا جائے۔

اس کی بجائے یہ فنڈز امریکہ میں سٹرکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے ہائی وے ٹرسٹ فنڈ کو دے دیے جائیں۔

پاکستان کی اقتصادی امداد روکنے سے متعلق ایک ایسا ہی بل سینیٹ میں بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ یہ بل پچھلے مہینے سینیٹر رینڈ پال نے متعارف کر ایا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG