رسائی کے لنکس

امریکہ پاکستان رابطے کس طرح استوار ہوں؟ گتھیاں کیسے سلجھیں؟


Pakistan US

دونوں فریق سرخ لکیر پار کرنے کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دے رہے ہیں، جب کہ کسی بھی فریق نے اس کی وضاحت نہیں کی، جسے عبور کرنے کو گراں قیمت چکانے کے مترادف قرار دیا جارہا ہے۔

جب سنہ 2008 میں امریکی خارجہ پالیسی میں لفظ ’ایف پاک‘ کی اصطلاح کا اضافہ ہوا، جو شاید رچرڈ بروک کی اختراع تھی، جو بعدازاں افغانستان اور پاکستان کے پہلے امریکی نمائندہٴ خصوصی مقرر ہوئے۔ اس پر بہت سارے پاکستانی برہم ہوئے۔

اس اصطلاح کو رائج کرنے کا مقصد اس تصور کو عیاں کرنا تھا کہ امریکی پالیسی خطے میں فوجی اور سلامتی کے معاملات میں ایک ہی طرح کی سوچ اختیار کرے گی۔

افغانستان میں لڑائی میں کامیابی کے لیے پاکستان کے ساتھ مربوط انداز کا طریقہ کار اپنانے کی ضرورت ہے۔ لیکن، پاکستان میں حکام کو محسوس ہوا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو افغان خوردبین سے دیکھنا چاہتا ہے۔

دس برس بعد بھی افغانستان میں لڑائی جاری ہے اور امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بد سے بدتر ہو چکے ہیں۔ امریکہ نے فوجی امداد معطل کر رکھی ہے جب تک کہ پاکستان شدت پسند گروپوں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کرتا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان کو محفوظ بنانے میں امریکی ناکامی پر اسے قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔

معید یوسف ’یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس‘ کے ’ایشیا سینٹر‘ کے ایسو سی ایٹ نائب صدر ہیں۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ ’’دونوں فریق سرخ لکیر پار کرنے کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دے رہے ہیں، جب کہ کسی بھی فریق نے اس کی وضاحت نہیں کی، جسے عبور کرنے کو گراں قیمت چکانے کے مترادف قرار دیا جارہا ہے۔ کوئی بھی تعلقات میں بگاڑ نہیں چاہتا۔ پھر بھی اس بات کا دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کوئی بھی ایک دوسرے کی سرخ لکیر کا غلط اندازہ لگا سکتا ہے۔ یہ ایسی صورت حال ہےجو پچھلے 15 برسوں میں کبھی نہیں دیکھی گئی‘‘۔

ایک طویل مدت سے امریکہ افغان طالبان کے ساتھ ساتھ اُس کے سخت مخالف دھڑے، حقانی نیٹ ورک کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام پاکستان پر لگاتا رہا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اُس نے فوجی کارروائیوں کی بھاری قیمت ادا کی ہے، جس کے بارے میں اُس کے کمانڈروں کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے پاکستانی سرزمین پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا صفایا کر دیا ہے۔ پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ طالبان نے افغانستان کے بہت سارے علاقوں پر قبضہ جما رکھا ہے، جس کے باعث اُنھیں پاکستان کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

اس دلیل کو امریکہ نے کبھی بھی قبول نہیں کیا۔ لیکن، ’بیک گراؤنڈ‘ اجلاسوں میں امریکی حکام نے اکثر یہ بات تسلیم کی ہے کہ وہ پاکستان کی تشویش کو سمجھ سکتے ہیں کہ وہ افغانستان کی لڑائی کو اپنی سرزمین تک پھیلانا نہیں چاہتے کہ افغان حکومت کے دشمن کو اپنا دشمن بنالیں۔

پاکستان بھی اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ امریکہ طالبان کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں بڑھا چڑھا کر اندازے لگاتا ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر خان کا کہنا ہے کہ ’’ہم کہتے ہیں کہ منظم محفوظ ٹھکانے باقی نہیں رہے‘‘۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ ہو سکتا ہے کہ باقی ماندہ شدت پسند شہری آبادی میں چھپے ہوئے ہوں۔ لیکن مسلسل جاری کارروائیوں کے ذریعے حکومت اُن کا پیچھا کر رہی ہے۔

سنہ 2018 مشکل سال ثابت ہو سکتا ہے

یوسف کے بقول، جوں جوں لڑائی طول پکڑتی جا رہی ہے، طالبان نے نیٹو اور افغان افواج کے خلاف مہلک حملے جاری رکھے ہیں۔

اُن کے بقول، ’’امریکہ کی نظروں میں پاکستان کی اِس تشویش کےحق میں سوچ یا ہمدردی ختم ہوچکی ہے کہ سرحد کے اس پار طالبان کے خلاف کی جانے والی کارروائی کے نتیجے میں پاکستان کے لیے مسائل بڑھیں گے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG