رسائی کے لنکس

logo-print

فوجی موجودگی کا معاہدہ، امریکہ فلپائن مذاکرات


فلپائن کے وزیر ِخارجہ کا کہنا ہے کہ فلپائن تمام تنازعات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے

فلپائن میں امریکہ کی فوجی موجودگی کا دائرہ کار وسیع کرنے کے معاہدے پر، بدھ کو دونوں ملکوں کے حکام نے مذاکرات کا آغاز کیا۔

معاہدے کی رُو سے امریکی فوج اور فوجی ساز و سامان کو فلپائن کے دفاعی کیمپس تک عارضی رسائی دی جائے گی۔

مشرقی بحیرہ چین میں چین کی بڑھتی ہوئی دخل اندازی کے باعث فلپائن نے بھی اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی ہے۔ فلپائنی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی فوجی موجودگی سے اُن کے ملکی دفاع کو سہارا ملے گا۔

پیر کے روز فلپائن کے وزیر ِخارجہ البرٹ ڈیل روزیریو کا کہنا تھا کہ فلپائن تمام تنازعات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔ لیکن، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلپائن کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

واشنگٹن میں امریکہ اور فلپائن کے درمیان باہمی فوجی اشتراک کے تحت ہونے والے ایک معاہدے کے بعد اس ماہ کے آغاز میں فلپائن نے امریکہ کے ساحلی دستوں کے لیے استعمال کیے جانے والا پرانا بحری بیڑہ رسمی طور پر واپس لیا تھا۔ فلپائن نے 2011ء میں امریکہ کے ہی ساحلی دستوں کے ایک بیٹرے کو دوبارہ تعینات کیا تھا، یہ جہاز بھی اس بیڑے کے ساتھ شامل کر دیا گیا۔

اس سے قبل، فلپائن میں بہت سے امریکی فوجی اڈے موجود تھے، جہاں ہزاروں امریکی تعینات تھے۔ لیکن، 1991ء میں اندرونی دباؤ بڑھنے کے باعث فلپائن میں موجود ان فوجی اڈوں کو بند کر دیا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG