رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: معیشت کا پہیہ دوبارہ چلانے پر بحث زور پکڑتی جا رہی ہے


Slow traffic NYC

امریکہ میں صدارتی انتخابات اب چند ماہ دور ہیں اور ملک کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے بند ہے۔ اور یہ بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ گرتی ہوئی معیشت کا پہیہ دوبارہ چلانے کی خاطر لاک ڈاؤن کو بتدریج ہی سہی لیکن ختم کیا جائے یا نہیں۔

ماہرین اور بعض سیاسی حلقوں کا استدلال ہے کہ ابھی لاک ڈاؤن نہیں ختم کیا جانا چاہئے، کیونکہ اس سے مستقبل میں اس وبا کے دوبارہ پھیلنے کے خطرات بڑھ جائیں گے؛ جبکہ صدر ٹرمپ کا موقف یہ ہے کہ لاک ڈاؤن بتدریج ختم کیا جانا چاہئیے، تاکہ معاشی سرگرمیاں پھر سے شروع ہو سکیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی توجہ معیشت پر ہے۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر معیشت بہتر نہ ہوئی اور ملک میں بے روزگاری بڑھی تو نومبر کے انتخاب میں ان کے لئے دشواریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

ڈیمو کریٹس کی کوشش یہ ہے کہ لاک ڈاؤن نہ کھلے جس کا نقصان ریپبلیکن پارٹی کو ہوگا اور وہ اس بحران سے نمٹنے کے لئے حکومت کی کارکردگی کو بھی اپنی مہم میں ہدف بنا سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ ملک میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ کیا انتخابات اپنی مقررہ تاریخ پر ہو سکیں گے اور اگر ہوئے تو کیا حالات ایسے ہونگے کہ معمول کے طریقہ کار کے مطابق ہوں یا ایبسنٹی بیلٹ کے ذریعے ہونگے یا پھر آن لائن انتخابات ہونگے۔

ممتاز تجزیہ کار واشنگٹن کے تھنک ٹینک ’پولیٹیکٹ‘ کے عارف انصار نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریپبلیکنز اس قسم کی ووٹنگ کے خلاف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کا ڈیموکریٹس کو فائدہ ہو گا۔ انہوں کہا کہ اس وقت یہ بحث بھی جاری ہے آیا انتخاب کی تاریخ آگے پیچھے ہو سکتی ہے یا نہیں اور ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ آئین کے مطابق انتخاب کی تاریخ تبدیل نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں میں یہ موضوع بھی زیر بحث ہے کہ کیا ایمرجنسی جیسی صورت حال نافذ کی جا سکتی ہے اور اگر جواب اثبات میں ہے تو کون سا ادارہ اس کا مجاز ہے۔

الیکشن میں کون سے مسائل عوام کے لئے زیادہ اہم ہونگے اس بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے عارف انصار کا کہنا تھا کہ معیشت اور کرونا وائرس کے بحران سے کس طرح نمٹا گیا۔ یہ دو انتہائی اہم مسائل ہونگے اور اب صدر ٹرمپ نے امیگریشن پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ بھی ایک بڑا مسئلہ بنے گا۔

کیٹو انسٹیٹیوٹ کی سحر خان نے بتایا ہے کہ صدارتی انتخابی مہم میں ڈیموکریٹس جن کو اس طرح مہم چلانے کا موقع نہیں مل رہا جس طرح صدر ٹرمپ اپنی مہم چلا رہے ہیں خاص طور پر کرونا وائرس کے بارے میں اپنی روزانہ بریفنگ سے وہ فائدہ اٹھا رہے ہیں، اس لئے ڈیموکریٹس زیادہ زور اس بات پر دیں گے کہ صدر ٹرمپ کی حکومت نے کرونا وائرس کے بحران سے نمٹنے میں کیا کیا غلطیاں کیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ امریکہ کا ہیلتھ کیئر سسٹم، ہیلتھ انشورنس اور صحت سے متعلق اشیا کی کمیابی کے سوالات بھی یقینی طور پر اٹھائے جائینگے۔

سحر خان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ بہتر معیشت کو اپنی کامیابی کی کلید سمجھتے ہیں، جسے انہوں نے بہت بہتر بھی کیا تھا، جو اب خراب ہو رہی ہے۔ اسی لئے وہ ملک کو کھولنے پر اصرار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتیں کہ موجودہ حالات میں خارجہ پالیسی انتخابات میں کوئی بڑا مسئلہ بن سکے گی۔

ایک اور تجزیہ کار کورنیل یونیورسٹی کے رضا رومی کا خیال تھا کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں روایتی طور پر زیادہ اہمیت معیشت اور روزگار کو ہی دی جاتی ہے اور امریکی عوام کی اکثریت کے لئے، بقول ان کے، خارجہ امور کوئی زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ خاص طور سے آج کل کے حالات میں جبکہ امریکہ ہی نہیں ساری دنیا میں کرونا کی وجہ سے کساد بازاری کے آثار نمایاں ہیں، معیشت اور ٹرمپ حکومت اس معاملے سے کس طرح نمٹے یہ ہی دو سب سے بڑے مسائل ہونگے اور ڈیموکریٹس ان ہی مسائل پر ریپبلیکن امیدوار کو ہدف بنائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG