رسائی کے لنکس

logo-print

انتخابی مہم: ٹرمپ اور جیب بش کی ایک دوسرے پر طعن و تشنیع


ٹرمپ اور جیب بش دونوں ہی نے بدھ کی شام شمالی ریاست نیو ہمپشائر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ٹاؤن ہال میں ووٹروں کی ریلیاں نکالیں

آئندہ برس ہونے والے امریکہ کے صدارتی انتخابات کے لئے ریپبلکن پارٹی کے دو چوٹی کے امیداروں رئیل اسٹیٹ کے بڑے تاجر ڈونالڈ ٹرمپ اور فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش نے پرائمری انتخابات سے پانچ ماہ پہلے ہی ایک دوسرے پر طعن و تشنہ شروع کر دیا ہے۔

ٹرمپ اور جیب بش دونوں ہی نے بدھ کی شام شمالی ریاست نیو ہمپشائر میں چند کلومیٹر کے فاصلے پر ٹاؤن ہال میں ووٹرز کی ریلیاں نکالیں۔

ریپبلکنز کے ابتدائی سیاسی سروے کے مطابق، ٹرمپ قومی اور پارٹی کی سطح پر 2016 کے پرائمری انتخابات میں سرفہرست امیدوار بن کر سامنے آسکتے ہیں۔

ٹرمپ اس وقت نامزد ریپبلکن امیدواروں میں سرفہرست ہیں اور اُنھوں نے باآسانی جیب بش کو مقابلے سے دور کر دیا ہے، حالانکہ وہ ایک سابق صدر کے بیٹے اور ایک اور سابق صدر کے بھائی اور ریپبلکن اسٹبلشمنٹ کی پسندیدہ شخصیت ہیں۔ لیکن، رنگین اور جوشیلی طبعیت کے مالک ون ٹائم رئیلیٹی ٹیلی ویژن شو کے میزبان ڈونالڈ ٹرمپ کے مقابلے میں بہت ہی دھیما مزاج رکھنے ہیں۔

ڈونالڈ ٹرمپ نے جیب بش کے حوالے سے طنزیہ کہا کہ، ’تمہیں کیا معلوم؟ میں تمہیں بتاتا ہوں۔ تمہیں معلوم ہے جیب کے لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ تمہیں پتا ہے کہ وہ سڑکوں پر ہیں، وہ سو رہے ہیں، وہ اب سو رہے ہیں۔‘

انھوں نے جیب بش کو توانائی سے عاری انسان سے تعبیر کیا۔ قبل ازیں، انھوں نے رپورٹرز کو بتایا کہ میں نہیں سمجھتا کہ وہ کسی طرح منتخب ہونے کے قابل نہیں۔

جواب میں جیب بش نے قدامت پسند ریپبلکنز کی طرح، ٹرمپ کے دعوے کاجواب دیا کہ، ’ٹرمپ کا کوئی قدامت پسند ریکارڈ موجود نہیں۔ وہ پوری گزشتہ دہائی میں ڈیموکریٹ رہے ہیں جس کے بعد وہ ریپبلکن بنے۔ انھوں نے ریپبلکنز کے مقابلے میں ڈیموکریٹس کو زیادہ پیسے دئے ہیں‘۔

فلوریڈا، اوہائیو اور پنسلونیا کی ریاستوں میں ووٹرز کی سوچ کا جائزہ لینے کے لیے ایک یونیورسٹی کے حالیہ سروے کے مطابق ٹرمپ اور ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن ان تین ریاستوں میں پارٹی کی جانب سے نامزد کردہ لوگوں میں اول نمبر پر ہیں، لیکن حمایت اور ایمانداری یا عوامی اعتماد کے اعبتار سے ان کا اسکور خاصا کم ہے۔

وہائٹ ہاؤس کو فتح کرنے کی دوڑ میں شامل کوئی بھی صدارتی امیدوار 1960 سے لے کر اب تک ان تین سیاسی طور پر فیصلہ کُن ریاستوں میں سے دو میں کامیابی کے بغیر منتخب نہیں ہو سکا ہے۔

XS
SM
MD
LG