رسائی کے لنکس

فرگوسن میں پولیس اہلکاروں پر گولی چلانے کا ’کوئی جواز نہیں‘: صدر اوباما


امریکہ کے صدر اوباما
امریکہ کے صدر اوباما

جمعرات کی رات امریکی ٹیلی وژن پر ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے صدراوباما نے کہا کہ گولی چلانے کا کوئی جواز نہیں تھا اور اس سے ’’اصل مسئلے سے توجہ نہیں ہٹنی چاہیئے۔‘‘

امریکہ کے صدر باراک اوباما نے ریاست میسوری کے شہر فرگوسن میں دو پولیس اہلکاروں پر گولی چلائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک مجرمانہ فعل قرار دیا اور کہا کہ گولی چلانے والے یا والوں کو ’’گرفتار کیا جانا چاہیئے۔‘‘

جمعرات کی رات امریکی ٹیلی وژن پر ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گولی چلانے کا کوئی جواز نہیں تھا اور اس سے ’’اصل مسئلے سے توجہ نہیں ہٹنی چاہیئے۔‘‘

اس سے قبل امریکہ کے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے جمعرات کی صبح ہونے والے حملے کو ’’گھات لگا کر کیا جانے والا حملہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ گولی چلانے والا ’’اختلاف کے بیج‘‘ بونے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ واقعہ محکمہ انصاف کی جانب سے ایک رپورٹ کے بعد فرگوسن شہر کے پولیس سربراہ کے استعفے کے چند گھنٹے کے بعد پیش آیا۔ اس رپورٹ میں محکمہ پولیس پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ نسلی امتیاز کی بنیاد پر کارروائیاں کرتی ہے۔

جمعرات کو پولیس گولی چلانے والے کو تلاش کرتی رہی مگر کسی کو گرفتار نہیں کیا جبکہ درجنوں لوگ اس مقام کے قریب سوگ کیلئے جمع ہوئے جہاں پولیس اہلکاروں پر گولی چلائی گئی۔

دریں اثناء مظاہرین نے پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنا دے کر اپنا احتجاج جاری رکھا۔

فرگوسن پولیس چیف ٹامس جیکسن نے ایک سفید فام پولیس افسر ڈیرن ولسن کے ایک نہتے، نو عمر سیاہ فام لڑکے کو سڑک پر جھڑپ کے دوران گولی مارنے کے واقعہ کے سات ماہ بعد بدھ کو اپنا استعفیٰ پیش کیا۔

مائیکل براؤن نامی یہ لڑکا بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا تھا۔

اس مہلک فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس چیف کو محکمے کے اندر نسلی امتیاز کی تلخ شکایات کا سامنا تھا۔

اپنی رپورٹ میں محکمہ انصاف نے فرگوسن پولیس ڈیپارٹمنٹ پر شہر کی سیاہ فام اکثریت کے خلاف تعصب برتنے پر تنقید کی ہے، جس میں بلاوجہ گاڑیوں کو روکنا، گرفتاریاں اور چالان شامل ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ شہر کے حکام یہاں کی عدالتوں کو پیسہ کمانے کا ذریعہ سمجھ کر چلاتے ہیں۔

محکمہء انصاف کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد پولیس چیف شہر کے چھٹے افسر تھے جو مستعفی ہوئے۔

اس سے پہلے فرگوسن شہر کے منیجر اور میونسپل کورٹ کے ایک جج نے گزشتہ ہفتے استعفیٰ دیا تھا جبکہ عدالت کے ایک کلرک اور دو پولیس اہلکاروں کو یا تو برطرف کر دیا گیا یا انہوں نے خود ہی استعفیٰ پیش کر دیا، جن کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے نسلی امتیاز پرمبنی ای میل بھیجے۔

فرگوسن میں اب بھی مائیکل براؤن کی موت کا گہرا اثر ہے جس کے بعد شہر میں کئی روز تک مظاہرے جاری رہے۔ گولی مارنے والے پولیس اہلکار ڈیرن ولسن پر محکمہ انصاف نے مائیکل براؤن کے شہری حقوق کی خلاف ورزی کرنے کی فردِ جرم عائد نہیں کی جبکہ ریاست کی گرینڈ جیوری بھی اس کے خلاف مجرمانہ الزامات عائد کرنے میں ناکام رہی۔

XS
SM
MD
LG