رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ کا واشنگٹن سے نیشنل گارڈز کی واپسی کا حکم


فائل فوٹو

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ دارالحکومت اب مکمل کنٹرول میں ہے۔ نیشنل گارڈز واپس اپنے گھروں کو جا رہے ہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر انہیں واپس بلایا جا سکتا ہے۔ کئی دنوں سے جاری مظاہرے کل اپنے عروج پر تھے۔

اتوار کو صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں تعینات پانچ ہزار نیشنل گارڈز فوجیوں کو واپس جانے کے احکامات دے دیے۔ انہیں پچھلے ہفتے شہر میں احتجاجی مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ دارالحکومت اب مکمل کنٹرول میں ہے۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح واشنگٹن میں بھی پولیس کی تحویل میں سیاہ فام امریکی کی ہلاکت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا۔ کل ہفتے روز یہ مظاہرے سارا دن جاری رہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ واپس جا رہے ہیں مگر ضرورت پڑنے پر یہ فوراً واپس آ سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹ ہیغام میں یہ بھی کہا کہ پچھلی رات مظاہرین توقع سے کم تھے۔

ہرچند کہ صدر ٹرمپ نے ان کی واپسی کا حکم دے دیا ہے، مگر سابق فوجی رہنما ایک ہفتہ قبل اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ کی اس دھمکی پر تنقید کر رہے ہیں کہ وہ مظاہرین پر کنٹرول کے لیے مقامی پولیس کو کمک پہنچانے کے لیے دس ہزار حاضر ڈیوٹی فوجیوں کو طلب کر سکتے ہیں۔

ریاست مینی سوٹا کے شہر منیاپولس میں 25 مئی کو پولیس کی تحویل میں سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ بعض جگہوں پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ہفتے کے روز ہونے والے مظاہرے مجموعی طور سے پر امن تھے۔ وفاقی حکومت نے امریکی فوج کے 1600 فوجی طلب کر لیے تھے، مگر انہیں استعمال نہیں کیا گیا۔

مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے وائٹ ہاؤس کے سامنے نیشنل گارڈز تعینات ہیں۔ 4 جون 2020
مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے وائٹ ہاؤس کے سامنے نیشنل گارڈز تعینات ہیں۔ 4 جون 2020

اٹارنی جنرل ولیم بار نے سی بی سی نیٹ ورک کے پروگرام "فیس دی نیشن" میں حصہ لیتے ہوئے اس خبر کو درست قرار نہیں دیا کہ صدر ٹرمپ حاضر سروس 10000 فوجیوں کو واشنگٹن میں تعینات کرنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا صدر ٹرمپ کبھی یہ نہیں کہا اور نہ یہ مشورہ دیا کہ ہمیں حاضر سروس فوجیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تاریخ میں پہلے ایسا ہو چکا ہے۔ تاہم ہم نے اس سے بچنے کی کوشش کی اور مجھے خوشی ہے اس مرتبہ ہم اس سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

دوسری طرف جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے سابق چیئرمین اور سابق نیوی ایڈمرل مائیک مولن نے اس بات کی مخالفت کی کہ مظاہروں کو کنٹرول کرنے لیے حاضر سروس فوجیوں کو طلب کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فوج اپنے عوام سے نہیں بلکہ دشمنوں سے لڑنے کے لیے ہے۔ اگر فوجیوں کو مظاہرین کے خلاف استعمال کیا گیا تو امریکی عوام سے اس کے رشتے ختم ہو جائیں گے اور عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا۔

جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے ایک اور سابق چیئرمین مارٹن ڈیمپسی نے اے بی سی نیوز نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میدان جنگ نہیں ہے۔ ہمیں فوج کو استعمال کرتے ہوئے بے حد احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ عشرے پہلے جب ویت نام کی جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے، اس وقت فوج پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی تھی اور پھر اس کو بحال کرنے میں ایک عرصہ لگ گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG