رسائی کے لنکس

logo-print

جارج فلائیڈ کی موت نے منظم نسلی امتیاز کو نمایاں کیا: براک اوباما


صدر اوباما نے وڈیو لنک کے ذریعے ٹائون ہال خطاب کیا۔

امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ جارج فلائیڈ کی موت نے امریکہ میں منظم نسلی امتیاز کو نمایاں کیا ہے۔

پولیس کا نظام بدلنے کے لیے شہری انتظامیہ کے حکام کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ سماج سدھارنے کی تحریکیں ہمیشہ نوجوانوں نے چلائی ہیں اور وہی اس وقت سڑکوں پر ہیں۔ لیکن حالات بدلنے کے لیے انھیں سیاسی طور پر متحرک ہونا ہوگا۔

انھوں نے ان خیالات کا اظہار اپنی غیر نفع بخش تنظیم مائی برادرز کیپر الائنس کے ٹاؤن ہال میں ویڈیو لنک پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ یہ تنظیم انھوں نے اپنے دور صدارت میں نسلی امتیاز کے خاتمے کی کوششیں تیز کرنے کے لیے قائم کی تھی۔ ٹاؤن ہال کا موضوع پولیس اصلاحات تھا۔

براک اوباما نے گفتگو کے آغاز میں جارج فلائیڈ اور پولیس حراست میں ہلاک دوسرے افراد کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا۔ انھوں نے کہا کہ جو بات انھیں پرامید بناتی ہے وہ یہ ہے کہ اس احتجاج میں بہت زیادہ نوجوان متحرک ہوئے ہیں۔ تاریخی طور پر امریکی معاشرے کی ترقی نوجوانوں کی مرہون منت رہی ہے۔ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ، میلکم ایکس، سیزر شاویز، حقوق نسواں کے رہنما، مزدور تحریکوں کے رہنما، ماحولیات کے لیے آواز اٹھانے والے رہنما، ہم جنس پرست رہنما، سب نوجوانی میں متحرک ہوئے۔

اوباما نے کہا کہ جب میں دیکھتا ہوں کہ ملک بھر میں نوجوانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے تو مجھے مایوسی ہوتی ہے لیکن جب ان کا ردعمل دیکھتا ہوں تو امید جاگ جاتی ہے۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ ملک کے حالات بہتر ہوجائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ جس طرح کا پولیس تشدد ہم نے دیکھا ہے، اسے روکنے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ 19 ہزار سے زیادہ نیوز فلموں اور 18 ہزار سے زیادہ آبادیوں میں اصلاحات کی ضرورت واضح ہوئی ہے۔ اسی لیے ایکٹوسٹس اور عام لوگ آواز اٹھاتے ہیں۔ ہمیں جاننا چاہیے کہ کیا تبدیلی آسکتی ہے اور ہم کیسے تبدیلی لاسکتے ہیں۔

براک اوباما نے کہا کہ یہ مئیر اور کاؤنٹی کے حکام ہوتے ہیں جو پولیس کے سربراہوں کا تقرر اور محکمہ پولیس کے ساتھ گفت و شنید کرتے ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں پولیس مقامی آبادی کے ساتھ اچھا برا سلوک روا رکھتی ہے۔ یہ سرکاری وکلا طے کرتے ہیں کہ پولیس اہلکاروں کے ناجائز اقدامات کی تحقیقات کی جائے یا نہیں۔ یہ سب لوگ الیکشن میں منتخب ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ تبدیلی لانے کے لیے احتجاج اور سیاست میں حصہ لینا دونوں ضروری ہیں۔ جب ہم کسی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں تو بااختیار لوگ بے آرام ہوجاتے ہیں۔ ان کے سامنے مسئلے کے عملی حل اور ایسے قانون پیش کرنا ضروری ہیں جن پر عمل کیا جاسکے۔

براک اوباما نے یاد دلایا کہ ان کے دور میں پولیسنگ ٹاسک فورس نے اصلاحات کی سفارشات تیار کی تھیں جو جائزہ لینے کے لیے موجود ہیں۔ بہت سے مئیرز اور کاؤنٹی حکام نے انھیں پڑھا ہے اور ان کی حمایت کی ہے۔ میں ان سب سے کہتا ہوں کہ انھیں پڑھیں اور کمیونٹی کے ساتھ مل کر اصلاحات کریں۔

سابق صدر نے کہا کہ انھوں نے مظاہرے دیکھے ہیں جن میں امریکی معاشرے کے بہت زیادہ طبقات نے پرامن طور پر حصہ لیا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ناانصافی ہورہی ہے اور اسے روکنے کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔ 1960 کی دہائی سے اتنے وسیع پیمانے پر اتحاد نہیں تھا۔ بہت کم تعداد میں پرتشدد ہنگامہ ہوا جسے کافی زیادہ توجہ ملی لیکن پھر بھی امریکیوں کی اکثریت نے مظاہروں کی حمایت کی ہے۔ تیس، چالیس یا پچاس سال پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ سوچ بدل رہی ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہتری ممکن ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG