رسائی کے لنکس

logo-print

افریقہ سے متعلق امریکہ کی فوجی حکمتِ عملی تبدیل


فائل فوٹو

امریکہ نے افریقی ممالک میں تعینات انفنٹری بریگیڈ (پیادہ فوج) کو خصوصی تربیت کاروں سے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کا کہنا ہے کہ نئی حکمت عملی سے خطے میں چین اور روس کے مفادات کا طاقت سے مقابلہ کیا جائے گا۔

پینٹاگون کی پریس سیکریٹری الیسہ فرح کا کہنا تھا کہ آنے والے ہفتوں میں امریکہ آرمی کے 101 ایئر بورن ڈویژن کے اہلکاروں کو واپس بلانا شروع کر دے گا۔

دوسری جانب ان اہلکاروں کی جگہ آرمی کے فرسٹ سیکیورٹی فورس اسسٹنٹ برج (ایس ایف اے بی) کے ارکان افریقہ بھیجے جائیں گے جو مختلف اہم ممالک میں مقامی افواج کے ساتھ ملک کر کام کریں گے۔

الیسہ فرح کا کہنا تھا کہ ایس ایف اے بی کے ارکان تربیت یافتہ اور جدید آلات سے لیس ہیں جن کا کام تربیت دینا، مشاورت اور کارروائیوں میں معاونت کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اہلکار روایتی فوج کے مقابلے میں زیادہ بہتر انداز سے اہداف کا حصول ممکن بنا سکیں گے۔

واضح رہے کہ سیکیورٹی فورس اسسٹنٹ برج کے اہلکار اس سے قبل افغانستان میں تعینات تھے جس کہ افغان فوج کی تربیت کے ساتھ ساتھ کارروائیوں میں ان کی معاونت کر رہے تھے۔

پینٹاگون کے اس اقدام سے افریقہ میں امریکہ کی فوج میں کمی لائی جائے گی۔ حکام منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ افریقہ میں صرف چھ ہزار تک فوجی تعینات ہوں۔

محکمہ دفاع کے اعلیٰ حکام زور دے رہے ہیں کہ امریکہ افریقہ میں اپنے اتحادیوں کو چھوڑ کر نہیں جا رہا۔

افریقہ میں امریکی آرمی کے کمانڈر میجر جنرل روجر کولٹائر کا کہنا تھا کہ ہم سب کچھ چھوڑ کر نہیں جا رہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مختلف مشقیں اور تربیتی مشن جاری رکھے ہوئے ہے اور ایک سال میں 300 سے زائد مشقیں اور تربیتی پروگرام کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ 'افریقین لائن' یعنی افریقہ کے شیر نامی مشق میں 4000 امریکہ فوجی شامل ہیں گے جب کہ افریقہ میں اتحادی ممالک کے پانچ ہزار فوجی اس کا حصہ ہوں گے۔

محکمہ دفاع کے دیگر حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے سیکیورٹی فورس اسسٹنٹ برج کے اہلکار بھیجنے سے شراکت داری میں بہتری آئے گی۔

واضح رہے کہ افریقہ میں روس اور چین نے مختلف قدرتی ذخائر کے ساتھ ساتھ فوج پر بھی سرمایہ کاری کی ہے جس کو پینٹاگون اہم سمجھ رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG