رسائی کے لنکس

logo-print

ایران سے خطرہ، بصرہ کے امریکی قونصل خانے سے سفارت کاروں کی واپسی


نیو یارک: مائیک پومپیو ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے

اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اس انتباہ کا اعادہ کیا کہ امریکیوں اور امریکی سفارتی تنصیبات کے خلاف حملوں کی صورت میں امریکہ ایران کو براہ راست ذمہ دار قرار دے گ

امریکہ نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ وہ عراقی شہر بصرہ میں اپنا قونصل خانہ موئثر طور پر بند کر دے گا اور وہاں تعینات سفارتی عملے کو متبادل مقام پر مامور کیا جائے گا، جس کا سبب ایران اور ایرانی پشت پناہی والی ملیشیا کی جانب سے بڑھتی ہوئی دھمکیاں ہیں، جن میں راکٹ حملے بھی شامل ہیں۔

یہ فیصلہ ایسے میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے مابین تنائو بڑھ چکا ہے، جب کہ ایران سخت امریکی معاشی تعزیرات کی زد میں ہے۔

تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان، بہرام قاسمی نے کہا ہے کہ قونصل خانہ بند کیا جانا ''بلا جواز اور غیر ضروری ہے''۔ وزارت کے ویب سائٹ کے مطابق، ایران سفارت کاروں یا سفارتی مقامات پر ہونے والے کسی بھی حملے کی مذمت کرتا ہے۔

اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اس انتباہ کا اعادہ کیا کہ امریکیوں اور امریکی سفارتی تنصیبات کے خلاف حملوں کی صورت میں امریکہ ایران کو براہ راست ذمہ دار قرار دے گا۔

اس سے قبل حالیہ دِنوں راکٹ حملے ہوئے ہیں جن کے بارے میں پومپیو کا کہنا تھا کہ ان کا ہدف بصرہ کا قونصل خانہ تھا۔ تاہم، امریکی اہلکاروں نے کہا ہے کہ راکٹ قونصل خانے کو نہیں لگے، جو بصرہ ایئرپورٹ کی عمارت میں واقع ہے۔

اپنے بیان میں پومپیو نے کہا کہ ''میں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایران کو سمجھ لینا ہوگا کہ اس نوعیت کے حملوں کی صورت میں امریکہ فوری اور مناسب اقدام کرے گا''۔

تاہم، پومپیو نے وضاحت کے ساتھ یہ نہیں بتایا آیا امریکہ کی جانب سے جوابی کارروائی کا امکان ہے۔ اور دیگر امریکی اہلکاروں نے ممکنہ جوابی اقدام کی نوعیت سے متعلق کچھ نہیں بتایا۔

باوجود اس کے، پومپیو نے کہا کہ عراق میں امریکی اہل کاروں اور تنصیبات کے خلاف دھمکیاں ''بڑھتی جا رہی ہیں اور کھلم کھلا ہیں''۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ اس معاملے سے نبردآزما ہونے کے لیے امریکہ عراقی افواج اور امریکی اتحادیوں کے ساتھ مل کر غور کر رہا ہے۔

بقول اُن کے، ''ہم عراق اور خطے میں امن اور استحکام میں دلچسپی رکھنے والے تمام بین الاقوامی فریق کی توجہ دلا رہے ہیں، تاکہ ایران کو اس ناقابل قبول رویے کا ٹھوس پیغام دیا جائے''۔

ایک بیان میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ قونصل خانہ ''خالی کرنے کے احکامات'' دیے گئے ہیں، جس کا تکنیکی طور پر مطلب یہ ہوا کہ تعینات عملے میں کمی لائی جائے۔ حالانکہ چند اہل کار اس سفارتی عمارت میں رہ سکتے ہیں، جس کا مقصد یہ ہے کہ کم از کم عارضی طور پر قونصل خانہ موئثر طور پر بند کر دیا جائے''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG