رسائی کے لنکس

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز سنہ 2015 کے پیرس موسمیاتی سمجھوتے سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا، جس پر اُن کے پیش رو براک اوباما نے دستخط کیے تھے۔ لیکن، کہا کہ امریکہ کی کوشش ہوگی کہ نیا سمجھوتا طے ہو۔

وائٹ ہاؤس کے ’روز گارڈن‘ سے خطاب کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکہ کو پیرس معاہدے سے الگ کرنے کا اعلان کر رہے ہیں، اور اِسے پھر سے طے کرنے کے لیے فوری مذاکرات شروع کیے جائیں گے، ’’تاکہ ایسا سمجھوتا طے ہو جو امریکی ٹیکس دہندگان کے لیے بہتر ہو‘‘۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہم اِس سے باہر آ رہے ہیں‘‘۔ تاہم، اُنھوں نے مزید کہا کہ وہ مذاکرات کاروں سے کہیں گے کہ سمجھوتے کی نئی شرائط منوائیں، ’’ایسا سمجھوتا طے کیا جائے جو بہتر ہو‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ امریکہ ’گرین کلائیمیٹ فنڈ‘ کی رقوم کو فوری طور پر روک دے گا، جس کے نتیجے میں ’’بہت بڑی رقم ضائع ہو رہی ہے‘‘۔

ٹرمپ کے بقول، ’’سادہ الفاظ میں, پیرس موسمیاتی معاہدہ اس بات کی تازہ مثال ہے کہ امریکہ ایسے سمجھوتے کا حصہ بنتا ہے جو اُس کے لیے نقصاندہ ہوتے ہیں‘‘۔

اس فیصلے سے چند ہی روز قبل اس بات پر سوچ بچار جاری تھا آیا ٹرمپ موسیماتی تبدیلی کے معاہدے سے باہر نکلنے کا اپنا وعدہ پورا کریں گے۔

بدھ کے روز ویتنام کے وزیر اعظم نگوین شوان پھوک کے ساتھ تصویر کی نشست کے دوران، ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایسے میں جب اس معاملے پر غور کیا جا رہا ہے، وہ دونوں اطراف کی آراٴ سن رہے ہیں۔

ترجمان شان اسپائسر نے بتایا کہ جن لوگوں سے مشاورت کی گئی اُن میں امریکی کاروباری شخصیات اور غیر ملکی سربراہان شامل ہیں۔

یہ اقدام اوباما دور کی پالیسی کا الٹ ہے، جس سے ٹرمپ کے حامی ری پبلیکن خوش ہوں گے، جب کہ ماحولیات سے متعلق ماہرین اور امریکی اتحادی برہم ہوں گے۔

معاہدے کی 195 ملکوں نے توثیق کی تھی۔ تکنیکی اور قانونی طور پر اِس پر عمل درآمد لازم ہے، جب کہ اِس کے نفاذ کی شقیں خاصی کمزور تھیں۔

مثال کے طور پر کاربن گیسوں کے اخراج کے اہداف پر عمل درآمد لازم نہیں تھا۔

معاہدے کے تحت، امریکہ نے سال 2025ء تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 26 سے 28 فی صد کی کمی لانے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم، اگر امریکہ اس ہدف کو پورا نہیں کرتا تو اس کے کوئی قانونی مضمرات نہیں ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG