رسائی کے لنکس

logo-print

رابطے منجمد ہونے سے متعلق روسی دعوے پر امریکہ کے تحفظات


ایک اعلیٰ سطحی امریکی اہل کار نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’میں اتنا ہی حیرت زدہ ہوں جتنا کہ آپ ہیں‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ روس کے ترجمان، دمتری پیسکاف سے ’’اُن کے بیان کے بارے میں پوچھا جانا چاہیئے‘‘

امریکی حکام نے بدھ کے روز روس کی جانب سے سامنے آنے والے بیان پر حیرانی کا اظہار کیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ روس اور امریکہ کے تعلقات عملی طور پر منجمد ہو چکے ہیں۔

ایک اعلیٰ سطحی امریکی اہل کار نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’میں اتنا ہی حیرت زدہ ہوں جتنا کہ آپ ہیں‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ روس کے ترجمان، دمتری پیسکاف سے ’’اُن کے بیان کے بارے میں پوچھا جانا چاہیئے‘‘۔

روس کے اس سرکاری بیان سے ایک ہی روز قبل امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس دِن امریکی اور روسی فوجی اہل کاروں نے وڈیو کانفرنس کے ذریعے شام کی سرحدی حدود میں محفوظ پروازوں کے معاملے پر بات چیت کی۔

بدھ کے روز کی اخباری بریفنگ کے دوران، محکمہٴ خارجہ کے ترجمان، جان کِربی نے کہا کہ ’’رابطے منجمد نہیں کیے گئے‘‘۔

کربی نے مزید کہا کہ ’’امریکہ مکالمے اور رابطے جاری رکھنے کے معاملے پر پُرعزم ہے‘‘۔

امریکی اہل کاروں نے تسلیم کیا ہے کہ ایسے میں جب تناؤ بڑھا ہوا ہے، روس کے ساتھ کافی اختلافات موجود ہیں، جن کا تعلق حکومتِ شام کی حمایت میں روس کی باغیوں کے خلاف ظالمانہ کارروائی سے لے کر حالیہ امریکی صدارتی انتخاب میں مبینہ روسی مداخلت شامل ہے۔

روسی ترجمان، دِمتری پیسکوف نے بدھ کے روز روس کے ’میر ٹی وی‘ کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ ’’تقریباً ہر سطح کا مکالمہ‘‘ منقطع ہو چکا ہے۔

پیسکوف کے حوالے یہ خبر بھی دی گئی ہے کہ اُنھیں توقع ہے کہ منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ کی جانب سے تعلقات کو ’’ایک تازہ اور زیادہ تعمیری نہج سے‘‘ دیکھا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG