رسائی کے لنکس

logo-print

شام کے کیمیائی ہتھیار تلف کرنے پر امریکہ اور روس میں اتفاق


امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ شام اپنے کیمیائی ہتھیاروں کی فہرست ایک ہفتے کے اندر فراہم کرے اور اپنے ہاں ایسے ہتھیاروں کی تنصیبات کے فوری معائنے کی اجازت دے۔

امریکہ اور روس کے درمیان شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کی تجویز پر اتفاق ہو گیا ہے۔

یہ بات ہفتہ کو امریکہ کے وزیرخارجہ جان کیری نے جنیوا میں تین روز تک اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ہونے والی بات چیت کے بعد کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ شام اپنے کیمیائی ہتھیاروں کی فہرست ایک ہفتے کے اندر فراہم کرے اور اپنے ہاں ایسے ہتھیاروں کی تنصیبات کے فوری معائنے کی اجازت دے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ اس معاہدے میں ممکنہ طور پر طاقت کا استعمال شامل نہیں ہے۔

امریکہ اور روس کے وزرائے خارجہ عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے شام کے لیے نمائندہ خصوصی لخدار براہیمی کے ساتھ تین روز تک روس کی اس تجویز پر مذاکرات کرتے رہے جس میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنڑول میں لینے کا کہا گیا تھا۔


امریکہ دمشق کے قریب کیے گئے حملے میں زہریلی گیسوں کے استعمال کا الزام صدر بشار الاسد کی حکومت پر عائد کرتا چلا آ رہا ہے۔ تاہم اسد حکومت کی طرف سے کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کے اقدام سے شام پر ممکنہ امریکی فوجی کارروائی سے بچا جا سکتا ہے۔

اوباما انتظامیہ نے ایک روز قبل کہا تھا کہ صدر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کسی بھی قرارداد میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی پر اصرار نہیں کریں گے۔ یہ فیصلہ اس تناظر میں کیا گیا کہ روس ایسی کسی بھی دھمکی آمیز قرارداد کو ویٹو کر سکتا ہے۔

تاہم عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کے پاس اقوام متحدہ کی حمایت کے بغیر بھی شام کے خلاف کارروائی کا اختیار ہے۔
XS
SM
MD
LG