رسائی کے لنکس

فضائی کارروائی کا مقصد سرحد پار دہشت گردی روکنا ہے: امریکی افواج


فائل

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے خلاف نئی فضائی کارروائیوں کا مقصد افغانستان کی جانب سے ہمسایہ ملکوں کو یقین دہائی کرانا ہے کہ دہشت گردوں کو وہاں ’’محفوظ ٹھکانہ‘‘ نہیں ملے گا، جو وہاں سے سرحد پار حملے کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی فوج نے جمعرات کو بتایا کہ فضائی حملوں کے دوران شمال مشرقی افغان صوبہٴ بدخشاں میں طالبان کے تربیتی کیمپوں کو ہدف بنا کر تباہ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اِن دورافتادہ دشوار گزار علاقوں میں قائم یہ کیمپ چین کے خلاف دہشت گردی میں ملوث تنظیم کی سرگرمیوں کی بھی حمایت کرتے ہیں، جسے ’مشرقی ترکستان اسلامی تحریک (اِی ٹی آئی ایم)‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

امریکی بیان کے مطابق، یہ تربیتی کیمپ افغانستان کے اندر ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے ساتھ ساتھ چین اور تاجکستان کے سرحدی علاقے میں ’اِی ٹی آئی ایم‘ کی دہشت گرد سرگرمیوں کی بھی حمایت کرتی ہیں‘‘۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان سلامتی افواج شدت پسندوں پر بھی حملے کرتی ہیں، جو داعش کی افغان شاخ سے منسلک ہیں، جن کی یہ کوشش ہے کہ ’’شمالی افغانستان میں پیر پختہ کیے جائیں‘‘۔

’اِی ٹی آئی ایم‘ نسلی یغور مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے، جس کا تعلق چین کے کشیدگی کے شکار مغربی سنکیانگ علاقے سے ہے، جس کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔

چین کے حکام ’اِی ٹی آئی ایم‘ پر سنکیانگ اور ملک کے دیگر علاقوں میں دہشت گرد حملے کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ ایک طویل مدت سے چین کہتا آیا ہے کہ افغان سرحدی علاقوں اور ملحقہ پاکستانی قبائلی پٹی میں ’اِی ٹی آئی ایم‘ کے شدت پسندوں کو پناہ دی جاتی ہے۔

افغانستان میں امریکی افواج اور نیٹو کے ’رزولوٹ سپورٹ مشن‘ کے کمانڈر، جنرل جان نکلسن نے کہا ہے کہ ’’کسی دہشت گرد گروپ کو محفوظ ٹھکانہ میسر نہیں آئے گا‘‘۔

اُن کے الفاظ میں ’’جہاں کہیں بھی وہ نظر آئے ہم اُنھیں ہدف بناتے رہیں گے۔ ہم ملک بھر میں اُن کو نشانہ بناتے رہیں گے‘‘۔

طالبان کے ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کے روز دعویٰ کیا کہ امریکی فضائی کارروائیوں میں بدخشاں کے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جب کہ باغیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ باغیوں کے دعووں کو ثابت کرنا مشکل ہوگا جو عمومی طور پر میدانِ جنگ کی تفصیل بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG