رسائی کے لنکس

امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دشمن کو شکست دینے کے لیے ابھی بہت سارا کام کرنا ہوگا۔ بقول اُن کے، ’’عراق میں جہاں کہیں بھی داعش موجود ہے اُس کی شکست کو یقینی بنانے کے لیے، ہم عراقی پارٹنرز کے ہمراہ کھڑے رہیں گے‘‘

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹِلرسن نے کہا ہے کہ موصل پر داعش کا قبضہ چھڑانے کی کامیابی دولت اسلامیہ کے خلاف عالمی لڑائی کی ایک کلیدی فتح ہے، جس سے عراقی سکیورٹی افواج کی قیادت میں بین الاقوامی کاوش کی کامیابی جھلکتی ہے۔

موصل کی فتح پر پیر کے روز ایک پیغام میں، وزیر خارجہ نے کہا کہ ’’صدر ٹرمپ اور امریکی عوام کی جانب سے میں وزیر اعظم عبادی اور عراقی عوام کو مبارکباد دیتا ہوں‘‘۔

ریکس ٹِلرسن نے کہا ہے کہ ہم عراقی سکیورٹی فورسز اور عراقی عوام کے ساتھ ساتھ کُرد پیشمگرگہ کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں؛ اور اس کارروائی کے دوران، متعدد ہلاکتوں پر اظہارِ تعزیت کرتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ موصل پر داعش کے ظالمانہ قبضے کے دوران، دہشت گرد تنظیم نے ہزاروں کی تعداد میں شہری آبادی کو قتل کیا، مساجد، اسکولوں اور اسپتالوں کی تنصیبات کو بم تشکیل دینے اور لڑائی کے محاذ کے طور پر استعمال کیا؛ اور ماضی قریب میں شکست سے دوچار ہونے پر داعش نے تاریخی النوری مسجد اور الحدبہ مینار کو تباہ کر دیا۔

ٹِلرسن نے کہا کہ عراقی قیادت میں، امریکہ اور اتحادی ساجھے دار اقوام متحدہ کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے، تاکہ موصل بھر کے آزاد کرائے گئے علاقوں میں استحکام لایا جاسکے، اور بے دخل کیے گئے افراد کو اپنے گھروں کی طرف واپسی میں مدد دی جاسکے۔

اُنھوں نے کہا کہ دشمن کو شکست دینے کے لیے ابھی بہت سارا کام کرنا ہوگا۔ بقول اُن کے، ’’عراق میں جہاں کہیں بھی داعش موجود ہے اُس کی شکست کو یقینی بنانے کے لیے، ہم عراقی پارٹنرز کے ہمراہ کھڑے رہیں گے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG