رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بدستور موجود ہیں: امریکہ


ایلس ویلز امریکی محکمۂ خارجہ میں جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کی نگران ہیں اور حالیہ چند ماہ کے دوران کئی بار پاکستان کا دورہ کرچکی ہیں۔ (فائل فوٹو)

ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کی حکومت پر زور دے رہا ہے کہ وہ ان دہشت گرد تنظیموں پر دباؤ بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کرے جن کے اہداف ان کے بقول "پاکستان سے باہر ہیں ۔"

امریکہ نے ایک بار پھر پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کا الزام عائد کرتے ہوئے پاکستانی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی اعلیٰ عہدیدار ایلس ویلز نے پیر کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس حقیقت پر پہلے بھی تشویش کا اظہار کرچکا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کو پاکستان کی سرزمین پر بدستور محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔

ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کی حکومت پر زور دے رہا ہے کہ وہ ان دہشت گرد تنظیموں پر دباؤ بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کرے جن کے اہداف ان کے بقول "پاکستان سے باہر ہیں ۔"

ایلس ویلز نے یہ بیان پیر کو واشنگٹن ڈی سی میں واقع فارن پریس سینٹر میں 'بحرِ ہند کے خطے میں امریکی پالیسی' کے عنوان سے ہونے والی ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب میں دیا۔

ایلس ویلز امریکی محکمۂ خارجہ میں جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کی نگران ہیں اور حالیہ چند ماہ کے دوران کئی بار پاکستان کا دورہ کرچکی ہیں۔

ایلس ویلز گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی بار پاکستان کا دورہ کرچکی ہیں جس کے دوران ان کی اعلیٰ سیاسی اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ (فائل فوٹو)
ایلس ویلز گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی بار پاکستان کا دورہ کرچکی ہیں جس کے دوران ان کی اعلیٰ سیاسی اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ (فائل فوٹو)

اپنی گفتگو میں امریکی محکمۂ خارجہ کی اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے اور امریکی حکومت "پاکستان کی سرحدوں کے دونوں جانب امن کی اہمیت سے متعلق وزیرِ اعظم عمران خان کے بیان کا خیرمقدم کرتی ہے ۔"

افغانستان اور خطے میں سکیورٹی کی صورتِ حال سے متعلق ایک سوال پر ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ افغانستان کی صورتِ حال میں بہتری کے لیے پاکستان کا کردار بہت بنیادی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان پر زور دیتا آیا ہے کہ وہ یا تو طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سخت اقدامات کرے یا پھر انہیں اپنی سرزمین سے بے دخل کرکے واپس افغانستان جانے پر مجبور کرے۔

ایلس ویلز نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران افغانستان اور پاکستان نے اپنے باہمی تعلقات میں بہتری کے لیے کوششیں کی ہیں جنہیں امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ بھارت افغانستان کی صورتِ حال میں بہتری کے لیے کردار ادا کرسکتا ہے اور اسے یہ کردار ادا کرنا بھی چاہیے۔

امریکہ اور افغانستان ماضی میں بھی کئی بار پاکستان میں افغان شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی کا الزام عائد کرچکے ہیں جو ان کے بقول سرحد پار کرکے افغانستان میں حملے کرتے ہیں۔

'پاکستان پہلے ہی بہت کچھ کرچکا'

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی کے پاس اس بارے میں قابلِ عمل انٹیلی جنس معلومات ہیں تو وہ پاکستان کو دے جس پر ان کے بقول پاکستان کارروائی کرے گا۔

منگل کو ٹیلی فون پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے کہا کہ اب تک پاکستان کو ان دعووں کے متعلق کوئی ایسی معلومات نہیں ملی ہیں۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل (فائل فوٹو)
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل (فائل فوٹو)

ترجمان نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے ایلس ویلز کا بیان تاحال نہیں دیکھا لیکن ان کے بقول ہمارا واضح مؤقف ہے کہ پاکستان افغان مسئلے کے حل کے لیے جو کچھ کر سکتا تھا وہ پہلے ہی کر رہا ہے اور کافی کچھ کر چکا ہے۔

محمد فیصل نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ باقی اسٹیک ہولڈرز کو بھی اب اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور بات چیت کے عمل کا عمل بڑھا کر افغان مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔

ایلس ویلز کا حالیہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اطلاعات ہیں کہ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو ستمبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کرسکتے ہیں۔

امریکہ اور پاکستان کی طرف سے تاحال امریکی وزیرِ خارجہ کے دورے کے بارے میں یا اس کی حتمی تاریخ کے متعلق باضابطہ طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

تاہم پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا تھا کہ دورے کی تفصیلات طے کی جا رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG