رسائی کے لنکس

logo-print

صومالیہ: فضائی کارروائی میں الشباب کے دو دہشت گرد ہلاک


امریکہ کی افریقی کمان نے کہا ہے کہ جنوبی صومالیہ میں ہونے والی ایک فضائی کارروائی کے دوران الشباب کے دو شدت پسند ہلاک، جب کہ ایک زخمی ہوا۔

افریقی کمان کا کہنا ہے کہ یہ فضائی حملہ پیر کے روز وسطی جُبّہ میں جیلیب کے قصبے کے مضافات میں ہوا۔

اس سال اب تک امریکی افواج کی جانب سے صومالیہ میں ہونے والی یہ چوتھی کارروائی تھی۔ الشباب کے خلاف گذشتہ کارروائیاں دو اور 18 جنوری اور 19 فروری کو کی گئی ہیں۔

دریں اثنا، سکیورٹی اہل کاروں نے ’وائس آف امریکہ‘ کی ’صومالی سروس‘ کو بتایا کہ الشباب کے 10 شدت پسند اتوار کی رات غروئے کے قصبے میں واقع ایک بحالی مرکز سے بھاگ نکلے۔

ذرائع کے مطابق، یہ عسکریت پسند مقامی وقت کے مطابق 8 بجے دیوار پھلانگ کر اندھیرے میں فرار ہوگئے۔

فرار کے معاملے پر پنت لینڈ خطے کے حکام نے ذرائع ابلاغ سے بات کرنے سے انکار کیا ہے۔ تاہم، ذرائع نے ’وائس آف امریکہ‘ کی ’صومالی سروس‘ کو بتایا کہ خطے کے راہنما، عبدالولی محمد علی غیث نے تفتیش کا حکم دیا ہے۔

ایک شدت پسند کو پیر کے روز پکڑ لیا گیا جب کہ تین کو منگل کے روز تحویل میں لیا گیا۔ چھ روپوش افراد میں تحلیل حسین علی بھی شامل ہیں، جن کے لیے بتایا جاتا ہے کہ وہ مفرور شدت پسندوں کا سرغنہ ہے۔

نام نہ بتانے کی شرط پر بات کرتے ہوئے، ایک انٹیلی جنس اہل کار نے کہا ہے کہ ’’حکام کا خیال ہے کہ یہ لوگ اب بھی ملک کے مضافات میں موجود ہیں، اور سکیورٹی افواج کی نظروں سے اوجھل ہیں‘‘۔

ان لوگوں کا تعلق الشباب لڑاکوں سے ہے جنھیں مارچ 2016ء میں پنت لینڈ افواج اور شدت پسندوں کے مابین ہونے والی مسلح جھڑپوں کے دوران پکڑلیا گیا تھا، جب الشباب نے ساحلی قصبوں پر سمندر کے راستے دھاوا بول دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG