رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب کے لیے امریکی سفیر کی نامزدگی کی توثیق


امریکی سینیٹ نے بدھ کے روز جنرل (ر) جان ابی زید کی سعودی عرب کے لیے امریکی سفیر کے طور پر تعیناتی کی توثیق کی۔ یہ عہدہ دو سال سے زیادہ عرصے سے خالی رہا ہے جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت کے فرائض سنبھالے ہیں۔

سینیٹ میں تعیناتی کے حق میں 92 جب کہ مخالفت میں سات ووٹ پڑے۔

اڑسٹھ برس کے ریٹائرڈ فور اسٹار جنرل نے عراق جنگ کے دوران امریکی سینٹرل کمان کی قیادت کی تھی۔

جنوری 2017ء سے سعودی عرب میں کوئی امریکی سفیر تعینات نہیں رہا، جس 27 ماہ کے عرصے کے دوران امریکہ سعودی تعلقات پیچیدہ تر ہوئے ہیں، جن میں ترکی کے سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خشوگی کے قتل کا معاملہ شامل ہے، جن کی امریکہ میں رہائش تھی اور ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے کالم نویس تھے۔

واشنگٹن میں متعدد افراد نے سعودیوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

ناقدین جن معاملات کو اٹھاتے ہیں ان میں سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کے سرگرم کارکنان اور دیگر منحرفین کو قید کرنا اور مبینہ اذیت دیے جانے کے علاوہ یمن کی لڑائی میں سعودی قیادت والے اتحاد کی جانب سے فضائی حملوں کے دوران شہریوں کی ہلاکتیں شامل ہیں۔

ٹرمپ نے نومبر 2018 میں ابی زید کو سفیر کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔

ساتھی ری پبلیکنز اور ڈیموکریٹس کی جانب سے شدید تنقید کے باوجود ٹرمپ نے سعودی عرب کے خلاف سختی برتنے سے احتراز کیا ہے۔ اس ضمن میں وہ اربوں ڈالر مالیت کے امریکی فوجی ہتھیاروں کی خریداری اور امریکی صنعتوں میں سرمایہ کاری کا حوالہ دیتے ہیں، اور ساتھ ہی ایران کے خلاف علاقائی توازن کو برقرار رکھنے کا موجب بتاتے ہیں، جب کہ ایران علاقے میں امریکہ کے اتحادی اسرائیل کا ازلی دشمن ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG