رسائی کے لنکس

logo-print

سینیٹ بل منظور، لواحقین کو سعودی عرب پر ہرجانے کے دعوے کا اختیار


ابھی امریکی ایوانِ نمائندگان نے اس اقدام کی منظوری دینی ہے، جس کے بعد صدر براک اوباما نے اس پر دستخط کرنے ہیں۔ اوباما نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایوانِ نمائندگان اس قانون سازی کی منظوری دیتا ہے تو وہ اسے ویٹو کردیں گے، یہ کہتے ہوئے کہ اس اقدام کے نتیجے میں بیرون ملک امریکیوں کو قانونی خدشات لاحق ہوں گے

امریکی سینیٹ نے منگل کو ایک قانون سازی کی منظوری دی ہے جس کےتحت 11 ستمبر، 2001ء میں امریکی سرزمین پر کیے گئے دہشت گرد حملوں کے متاثرین یا ہلاک شدگان کے لواحقین سعودی عرب کی حکومت پر ہرجانے کا دعویٰ کرنے کے اہل ہوں گے۔ اِن دہشت گرد حملوں میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سعودی عرب نے اِن حملوں میں ملوث ہونے کے امکان کو مسترد کیا ہے، جو امریکہ کے خلاف بدترین دہشت گردی تھی۔ طیارے کے 19 ہائی جیکروں میں سے 15 کو بعد میں سعودی شہری کے طور پر شناخت کیا گیا تھا۔ اِن ہائی جیکروں نے نیو یارک اور واشنگٹن میں حملے کی غرض سے چار مسافر جیٹ طیاروں کو ہائی جیک کیا تھا۔
اِس قانون سازی کے تحت، جس کی منظوری صوتی رائے دہی کے ذریعے دی گئی، متاثرہ خاندانوں کو حق حاصل ہے کہ وہ اس حملے میں سعودی عرب کے کسی کردار پر ہرجانے کا دعویٰ دائر کرسکتے ہیں۔ ادھر، یہ اقدام قانون بننے کی صورت میں، سعودی عرب نے امریکی معشیت سے اربوں ڈالر کا سرمایہ کھینچ لینے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

ابھی امریکی ایوانِ نمائندگان نے اس اقدام کی منظوری دینی ہے، جس کے بعد صدر براک اوباما نے اس پر دستخط کرنے ہین۔

اوباما نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایوانِ نمائندگان اس قانون سازی کی منظوری دیتا ہے تو وہ اسے ویٹو کردیں گے، یہ کہتے ہوئے کہ اس اقدام کے نتیجے میں بیرون ملک امریکیوں کو قانونی خدشات لاحق ہوں گے۔

سینیٹ کی جانب سے اس قانون سازی کے بعد، وائٹ ہاؤس کے ترجمان، جوش ارنیسٹ نے کہا ہے کہ ’’جس ممکنہ تشویش کا ہم نے اظہار کیا ہے، یہ بات بعید از قیاس لگتی ہے کہ صدر اس قانون سازی پر دستخط کردیں گے‘‘۔

فی الحال اس اقدام کی کانگریس کے ایوانوں ہی میں گردش جاری ہے، ایسے میں جب اوباما اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ حملے کے بارے میں سرکاری تفتیشی رپورٹ میں شامل اُن 28 صفحات کو عام کیا جائے جن میں سعودی عرب کے ملوث ہونے کے امکان پر بات کی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG