رسائی کے لنکس

روس کے خلاف تعزیرات، سینیٹ میں مشترکہ قانون سازی کا مجوزہ بِل پیش


فائل

بِل میں تجویز کیا گیا ہے کہ سائبر سکیورٹی اور جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے والے حلقوں کے خلاف ویزا کی پابندیاں اور اُن کے اثاثے منجمد کرنے کا اقدام کیا جائے، جس سے ممکنہ طور پر روسی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ کاروبار کرنا مزید مشکل ہوجائے گا

منگل کے روز سینیٹ میں ایوان کے دونوں اطراف کی حمایت پر مبنی ایک بِل پیش کیا گیا، جس میں نومبر کے امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کے خلاف عائد کردہ تعزیرات میں اضافہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر، بین کارڈن، جو اِس بِل اہم محرک ہیں، کہا کہ ’’جب ہمارے ملک کے خلاف ’پرل ہاربر‘ پر حملہ کیا گیا اور جب 11 ستمبر کو ہمارے ملک پر حملہ ہوا، ہم نے حملہ کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا سوچا اور ملکی قومی سلامتی کے مفاد میں مزید حملوں کی پیش بندی کی۔ یہ عام رواجی معاملہ نہیں تھا۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہم یہ واضح کردیں کہ اِس قسم کی حرفتوں کے نتائج برآمد ہوتے ہیں اور ہماری قانون سازی کا یہی مقصد ہے‘‘۔

امریکی ری پبلیکن پارٹی کے سینیٹروں جان مکین اور لِنڈسی گراہم نے ایوان کے سامنے ایک بِل پیش کیا، جس میں نومبر کے صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کی پاداش میں روس کے خلاف تعزیرات میں اضافہ کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
دونوں سینیٹر، جو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ناقد ہیں، منگل کی شام اخباری کانفرنس میں یہ تجویز پیش کی۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر بین کارڈن، اِس مجوزہ قانون سازی کے اہم روح رواں ہیں؛ جب کہ سات شریک قانون سازوں میں ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی نامزدگی کے سابق امیدوار اور سینیٹر، مارکو روبیو بھی شامل ہیں۔

اِس قانون سازی کو ’’روسی مخاصمت کے تدارک کے 2017ء کے بِل‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ ری پبلیکن پارٹی کے کلیدی قانون ساز روس کو سزا دینے کے خواہاں ہیں، حالانکہ ٹرمپ روس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بِل امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کی جانب سے جاری کردہ ’ڈی کلاسی فائیڈ‘ رپورٹ کے چار روز بعد پیش کیا گیا، جس میں روس پر انتخابی عمل میں مداخلت کا الزام لگایا گیا تھا۔

منجمد اثاثے، پابندیاں

بِل میں تجویز کیا گیا ہے کہ سائبر سکیورٹی اور جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے والے حلقوں کے خلاف ویزا کی پابندیاں اور اُن کے اثاثے منجمد کرنے کا اقدام کیا جائے، جس سے ممکنہ طور پر روسی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ کاروبار کرنا مزید مشکل ہوجائے گا۔

اِس قانون سازی میں صدر براک اوباما کی انتظامیہ کی جانب سے روس پر نافذ کی گئی تعزیرات کو شامل کیا جائے گا، جو اقدام روس کی طرف سے انتخابات میں مداخلت اور سنہ 2014 میں کرائمیا کو ضم کرنے کے جواب میں کیا گیا۔

اضافی طور پر، بِل میں روسی پروپیگنڈہ کے توڑ کے لیے، محکمہٴ خارجہ اور امریکی اداروں کو 10 کروڑ ڈالر کی رقوم مختص کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

اگر یہ بِل منظور ہوتا ہے تو ٹرمپ انتظامیہ کو تعزیرات پر عمل درآمد کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ سینیٹر کارڈن نے کہا ہے کہ مجوزہ بِل میں استثنیٰ کی ایک شق رکھی جائے گی، تاکہ اِس کے ذریعے، اگر امریکہ کے بہترین مفاد میں ہوا، تو صدر کو تعزیرات اٹھانے کی اجازت ہوگی۔

ادھر، سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے سوالات کا جواب دیتے ہوئے، نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائرکٹر، جیمز کلیپر نے کہا کہ ’’روس کے اثر و رسوخ کی مہم انٹیلی جنس کی پوشیدہ کارروائی پر مبنی تھی، جس میں روسی حکومت کے اداروں کی کھلی کاوشیں، میڈیا کو سرکاری رقوم کی فراہمی، تیسرے فریق کی جانب سے مصالحتی کردار بجا لانے اور سماجی میڈیا کے اجرتی صارفین کا کردار شامل تھا‘‘۔

جمعے کو جاری ہونے والی رپورٹ میں، انٹیلی جنس کمیونٹی نے کہا تھا کہ اُسے ’’پورا یقین ہے‘‘ کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ذاتی طور پر احکامات صادر کیے کہ امریکہ کے جمہوری صدارتی انتخابی عمل کو نقصان پہنچایا جائے۔

امریکی حکام نے بتایا کہ اِن روسی کوششوں کا مقصد ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن کے انتخاب کے امکانات کو کم کرنا اور ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار، ٹرمپ کے انتخاب کے امکانات میں مدد دینا تھا۔

روس نے اِن امریکی دعوؤں کو مسترد کیا ہے کہ اُس کی جانب سے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی گئی۔ روسی ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی تعزیرات کی دھمکی پر مشتمل قانون سازی کا مقصد دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو مزید نقصان پہنچانا ہے۔

XS
SM
MD
LG