رسائی کے لنکس

logo-print

الپاسو فائرنگ داخلی دہشت گردی کا واقعہ قرار، تحقیقات جاری


ٹیکساس کے شہر الپاسو اور اوہائیو کے شہر ڈیٹن کے فائرنگ کے دو حالیہ واقعات میں سے ایک کو امریکی وفاقی حکام اندرون ملک دہشت گردی کا معاملہ قرار دے رہے ہیں۔

الپاسو میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں، جس میں 22 افراد ہلاک ہوئے، امریکہ میں داخلی دہشت گردی سے نبرد آزما ہونے کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

ایف بی آئی نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ حملے ملک کے اندر انتہاپسندی کے فروغ کا باعث بن سکتے ہیں، چونکہ مستقبل میں ایسے مزید پرتشدد حملے ہو سکتے ہیں۔

ایف بی آئی نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ایف بی آئی کو تشویش ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ گذشتہ اختتام ہفتہ اور اس سے قبل ہونے والے اس طرح کے حملوں کے نتیجے میں اندرون ملک پُرتشدد انتہاپسندوں کو شہ ملے کہ وہ تشدد کے ایسے ہی واقعات میں ملوث ہوں‘‘۔

اندرون ملک دہشت گردی میں اضافہ

نارتھ کیرولینا میں ’ویک فوریسٹ یونیورسٹی‘ سے وابستہ دہشت گردی کے مضمون کے ایک ماہر، رینڈل روگن نے کہا ہے کہ سفید فام بالادستی کے گروہوں کے ساتھ ساتھ بائیں بازو کے انتہا پسندوں کی جانب سے اندرون ملک دہشت گردی کے واقعات سامنے آنے کے نتیجےمیں ایسے خدشات کا اندیشہ بڑھ رہا ہے، حالانکہ یہ گنتی کے چند واقعات ہیں‘‘۔

پیٹر برگن واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک، ’نیو امریکہ ‘میں قومی سیکورٹی کے ماہر اور نائب صدر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حالیہ برسوں کے دوران دائیں بازو سے متاثر ہونے والے انتہاپسندوں میں اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’کافی عرصے سے دائیں بازو کی دہشت گردی دیکھنے میں آرہی ہے۔ لیکن، گذشتہ چند برسوں سے یہ معاملہ اس لیے مختلف ہے کہ الپاسو اور پٹسبرگ (2018ء کی سائناگوگ کی فائرنگ) جیسے واقعات میں کافی جانی نقصان ہوا‘‘۔

’نیو امریکہ‘ کے مطابق، 9/11 کے دہشت گرد حملوں کے بعد دائیں بازو کے انتہا پسند نظریات، جس میں سفید فام بالادستی، حکومت مخالف اور اسقاط حمل کے مخالف شامل ہیں، ان میں امریکہ میں اب تک 107 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مطالعاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسی عرصے کے دوران، غیر ملکی دہشت گرد گروہوں سے وابستہ امریکہ میں داخلی طور پر پیدا ہونے والے دہشت گردوں کے حملوں میں 104 افراد ہلاک ہوئے۔

پریشان کُن امر

ایف بی آئی کے سابق قائم مقام سربراہ، اینڈریو مکابے نے پیر کے دِن سی این این کو بتایا کہ امریکہ میں اندرون ملک دہشت گرد حملوں اور بیرون ملک داخلی دہشت گرد حملوں کے مابین پریشان کُن ناطوں کا پتا چلتا ہے۔ یہ بات بھی دیکھی گئی ہے کہ حملہ آور اکثر (دیگر بیرون ملک حملہ آوروں) کے منشور کا حوالہ دیتے ہیں‘‘۔

درحقیقت الپاسو کے حملہ آور نے نیوزی لینڈ کے دہشت گرد حملہ آور کے چار صفحات پر مشتمل آن لائن منشور کا حوالہ دیا، جس نے مارچ میں درجنوں مسلمان نمازیوں کو ہلاک کیا تھا۔

مکابے نے مزید کہا کہ ’’ایک جیسے ذہن رکھنے والوں کی حرکات مسئلو کو مزید گنجلک اور آگ بڑھکانے کا سبب بن سکتی ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG