رسائی کے لنکس

logo-print

روہنگیاؤں پر مظالم، میانمار کے فوجی سربراہ پر پابندیاں


انسانی حقوق کی پامالی کے الزام پر امریکہ کی جانب سے میانمار کے خلاف یہ اب تک کا سخت ترین اقدام ہے۔ (فائل فوٹو)

امریکہ نے میانمار کے چار فوجی رہنماؤں پر تعزیرات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جن میں کمانڈر ان چیف بھی شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی پامالی کے الزام پر امریکہ کی جانب سے میانمار کے خلاف یہ اب تک کا سخت ترین اقدام ہے۔

ایک طرف فوجی سربراہ مِن آنگ ہلینگ کو بھی پابندیوں کا ہدف بنایا گیا ہے جبکہ دوسری جانب آج ہی کے دن میانمار کی نوبل انعام یافتہ سویلین رہنما آنگ سان سوچی نے دی ہیگ میں اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت کی پہلی سماعت میں شرکت کی، جہاں وہ قتل عام کے الزامات پر میانمار کی دفاعی ٹیم کی قیادت کر رہی ہیں۔

دو ہزار سترہ میں میانمار میں فوجی کارروائی کے دوران سات لاکھ 30 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمانوں نے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں پناہ لی تھی۔

اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ میانمار کی کارروائی میں اجتماعی ہلاکتیں، جنسی تشدد، نذر آتش کرنا اور 'نسل کشی' جیسے جرائم شامل ہیں۔

میانمار کی نوبل انعام یافتہ سویلین رہنما آنگ سان سوچی نے دی ہیگ میں اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت کی پہلی سماعت میں شرکت۔
میانمار کی نوبل انعام یافتہ سویلین رہنما آنگ سان سوچی نے دی ہیگ میں اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت کی پہلی سماعت میں شرکت۔

میانمار نے بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ فوج کا اقدام دہشت گردی کے خلاف لڑائی کا حصہ تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ مِن آنگ ہلینگ کی سربراہی میں میانمار کی فوج نے انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’انہی دنوں نسلی اقلیت کے گروہوں کے ارکان گولیاں چلنے کے واقعات میں ہلاک و زخمی ہوئے۔ عام طور پر یہ واقعات اس وقت ہوئے جب وہ بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ انھیں فوجیوں نے تیز دھار اسلحے سے قتل کیا جبکہ دیگر کو ان کے گھر میں آگ لکا کر ہلاک کیا گیا۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG