رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی نائب وزیر خارجہ کی جنوبی کوریا میں اپنے ہم منصب سے ملاقات


ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام سے متعلق بات چیت کی گئی۔

امریکہ کے نائب وزیر خارجہ نے پیر کو سئیول میں جنوبی کوریا کے اپنے ہم منصب سے دو طرفہ اُمور اور شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام سے متعلق بات چیت کی۔

امریکی نائب وزیر خارجہ ٹونی بلنکن اپنے ایشیا کے دورے کے پہلے مرحلے میں سئیول میں تین روز قیام کریں گے، جس کے بعد وہ اس دورے کے دوران چین اور جاپان بھی جائیں گے۔

پیر کو جنوبی کوریا کے نائب وزیر خارجہ چو تائی یانگ سے ملاقات کے بعد بلنکن نے کہا کہ شمالی کوریا پر اس وقت تک پابندیاں برقرار رکھی جائیں گی جب تک پیانگ یانگ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں چھ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں سنجیدگی ظاہر نہیں کرتا۔

ٹونی بلنکن نے کہا کہ "بین الاقوامی برادری کی طرف سے شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کی وجہ سے اسلحہ اور میزائل پروگرام کے لیے مواد حاصل کرنے کی اس کی صلاحیت پر اہم فرق پڑا ہے۔۔۔۔ تاہم بالآخر یہ فیصلہ شمالی کوریا نے کرنا ہے۔ یہ اس کو سوچنا ہے کہ کیا وہ خود کو مسلح کرنے کے عمل کو روک کر قابل بھروسہ اور حقیقی مذاکرات چاہتا ہے۔ ہم اس کے لیے تیار ہیں اور اس کا ہم خیر مقدم کریں گے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ اس وقت تک جب تک شمالی کوریا مذاکرات کے لیے اپنی سنجیدگی کا اظہار نہیں کرتا اُس پر دباؤ برقرار رکھنا اور اس معاملے پر بین الاقوامی برادری میں یکجہتی ضروری ہے۔

شمالی کوریا کی طرف سے ’سونی پکچرز اسٹوڈیو‘ کی ویب سائٹ پر مبینہ سائبر حملے کے بعد اس پر نئی پابندیاں عائد کی گئی تھیں جس کے بعد واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

شمالی کوریا نے گزشتہ ہفتہ کہا تھا کہ اسے واشنگٹن سے مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں اور اس نے جوہری اور سائبر حملوں کی دھمکی بھی دی تھی۔

XS
SM
MD
LG