رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ بحری مشقوں کا آغاز


امریکہ اور جنوبی کوریا نے اتوار کومشترکہ بحری مشقوں کا آغاز کردیا ہے جن میں دنوں ملکوں کے آٹھ ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں اور یہ مشقیں چار روز تک جاری رہیں گی ۔

ان فوجی مشقوں میں 21 بحری جنگی جہاز حصہ لے رہے ہیں جن میں جوہری ہتھیاروں سے مسلح ہوائی جہاز بردار یو ایس ایس جارج واشنگٹن اور اس کے پانچ ہزار جہاز ران بھی شامل ہیں۔ حکام نے تبایا ہے کہ 200 لڑاکا طیارے بشمول F-22 ریپٹر بھی ان مشقوں کا حصہ ہیں جو امریکی فضائیہ کے جدید ترین جہاز ہیں۔

شمالی کوریا کے قومی کمیشن برائے دفاع نے ہفتہ کو متنبہ کیا تھا کہ اگر امریکہ اور جنوبی کوریا نے یہ مشترکہ مشقیں شروع کی تو دونوں ملکوں کے خلاف ”مقدس جنگ“ شروع کردی جائے گی ۔ شمالی کوریا کے ایک ترجمان نے ان مشقوں کو ملک کی سالمیت کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

امریکی اور جنوبی کوریائی فوجی رہنماؤ ں نے کہا ہے کہ ان بحری مشقوں کے ذریعے طاقت کے نمایا ں مظاہرے کا مقصد شمالی کوریا کو مزید جارحیت سے باز رکھنا ہے۔

مشترکہ فوجی مشقیں اور شمالی کوریا کی دھمکی کا پس منظر مارچ میں جنوبی کوریا کے ایک بحری جنگی جہاز کو ڈبونے کا ہلاکت خیز واقعہ ہے۔ ایک بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ٹیم کی تحقیقات کے مطابق جہاز شمالی کوریا کی ایک آبدوز سے داغے گئے تارپیڈو میزائل لگانے سے ڈوبا ہو ا تھا جس میں 46 جہاز ران بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ شمالی کوریا ان الزامات کو من گھڑت قرار دے کر مسترد کرچکا ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ پہلے بحرِ زرد میں ہونی تھیں لیکن چین کی طرف سے اعتراض کے بعد یہ مشقیں جنوبی کوریا کے مغربی ساحل میں کی جارہی ہیں۔ تاہم جنوبی کوریاکے حکام نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ چین کی طرف سے دباؤ جنگی مشقوں کا مقام تبدیل کرنے کی بڑی وجہ ہے۔

XS
SM
MD
LG