رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ سے اچھے تعلقات کے لیے پاکستان افغان پالیسی بہتر بنائے: خلیل زاد


امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے اپنے دورے کے اگلے مرحلے میں اسلام آباد پہنچنے کے بعد پاکستانی حکام کے ساتھ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے جاری کوششوں پر بات چیت کی ہے۔

اس سے قبل انہوں نے افغانستان میں اپنے دورے کے موقع پر پاکستان پر زور دیا کہ وہ کابل کی جانب اپنی پالسیی پر نظر ثانی کرے۔

افغانستان کے امن عمل کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے کہنا تھا کہ اگر اسلام آباد واشنگٹن کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے تو پاکستان کو افغانستان سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل اور اس ملک میں مداخلت بند کرنا ہو گی۔

افغان میڈیا گروپ طلوع نیوز کے مطابق امریکی سفارت کار نے ویڈیو لنک پر بامیان، جوزجان اور پروان صوبوں میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کے لیے اسلام آباد کو کابل سے متعلق اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔

انہوں نے اپنی تقریر میں طالبان کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن و مفاہمت کے معاہدے پر پہنچنے کے لیے اسلام آباد ایک زیادہ تعمیری کر دار ادا کرسکتا ہے۔

خلیل زاد افغانستان کا دورہ مکمل کر کے جمعے کو اسلام آباد پہنچے تھے جس کے بعد دفترِ خارجہ میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔

بات چیت میں امریکی وفد کی قیادت خلیل زاد جب کہ پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کی۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ مذاکرات میں افغان مفاہمتی عمل میں ہونے والی پیش رفت سمیت اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

خلیل زاد نے بعد ازاں دفترِ خارجہ میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات کی۔

ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں امریکی ایلچی نے وزیرِ خارجہ کو افغانستان میں قیامِ امن کے کی کوششوں کے سلسلے میں امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں ہونے والے مذاکرات سے آگاہ کیا۔

ملاقات کے دوران پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان افغان امن عمل میں اپنا تعاون جاری رکھے گا کیوں کہ ان کے بقول افغانستان میں امن و استحکام پاکستان سمیت پورے خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔

دریں اثنا پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی 'آئی ایس پی آر' نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعے کو راولپنڈی میں فوج کے صدر دفتر میں پاکستانی فوج کے سربراہ سے بات چیت کے دوران امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت اور جنرل قمر جاوید باجوہ نےعلاقائی سلامتی کی صورتحال خاص طور پر افغان امن و مصالحت کی جاری عمل کے بارے میں تبادلہ خیا ل کیا ہے۔

بیان کے مطابق سفیر خلیل زاد اس موقع پر افغانستان میں قیام امن کی لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ۔

زلمے خلیل زاد افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے ایک بار پھر خطے کے دور ے پر ہیں۔

جمعے کو اسلام آباد پہنچنے سے قبل خلیل زاد نے کابل کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے افغان صدر اشرف غنی اور دیگر سیاسی رہنماؤں سے امن عمل کے بارے میں بات چیت کی تھی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے وسط میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان متوقع مذاکرات سے پہلے خلیل زاد کا خطے کا یہ دورہ اہم ہے۔

افغان تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے امریکی حکومت کی کوششوں میں حالیہ مہینوں میں تیزی آئی ہے۔ امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت، گزشتہ چھ ماہ کے دوران طالبان رہنماؤں سے متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

گزشتہ ماہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ اور طالبان نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے سے متعلق ایک معاہدے کے مسودے پر اتفاق کیا تھا۔

تاہم افغانستان میں مکمل جنگ بندی اور افغان گروپوں کے مابین مذاکرات پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

امریکہ اور بین الاقوامی برادری کے دباؤ کے باوجود طالبان تاحال کابل حکومت سے بات چیت کرنے پر تیار نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG