رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا ترکی کو ایف 35 لڑاکا طیاروں کے تربیتی پروگرام سے علیحدہ کرنے کا اعلان


فائل

روسی فضائی دفاع کے نظام کے حصول کے سمجھوتے کے نتیجے میں سامنے آنے والے تعطل کے حوالے سے، امریکہ نے ترکی کے خلاف برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیٹو اتحادی کو ایف 35 لڑاکا جیٹ طیاروں سے دور رکھنے کے لیے ترک پائلٹوں کو اس جدید طیارے کی نئی تربیت کی فراہمی روک دی ہے۔

قائم مقام امریکی وزیر دفاع، پیٹرک شناہان نے اپنے ترک ہم منصب کو ایک مراسلہ بھیجا ہے، جس پر ’رائٹرز‘ کی جمعے کے روز نظر پڑی ہے، جس میں اُن اقدامات کا ذکر شامل ہے جن کے تحت ترکی کو اس پروگرام سے ہٹایا گیا ہے۔

اس معاملے پر رائٹرز نے پہلی بار جمعرات کو مزید ترک پائلٹوں کی تربیت روکے جانے کے حوالے سے فیصلے کی خبر جاری کی تھی، جس سے واضح طور پر یہ اشارہ ملتا ہے کہ امریکہ اور ترکی کے مابین یہ تنازع شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ ترکی کی جانب سے روسی ایس 400 فضائی دفاع کے نظام کا حصول ’لوک ہیڈ مارٹن کارپوریشن‘ کے ایف 35 اسٹیلتھ فائٹرز کے لیے خطرے کا باعث ہے، جسے ترکی خریدنا چاہتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ترکی ایکساتھ یہ دونوں کام نہیں کر سکتا۔

شناہان کا خط اس بات کا کھل کر ذکر کرتا ہے کہ ’’ایف 35 کی اب کوئی نئی تربیت نہیں ہوگی‘‘۔ مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ اس سال کے اواخر میں 34 طالب علموں کو ایف 35 کی تربیت دی جانی تھی۔

مراسلے کے ہمراہ روانہ کی گئی ایک اٹیچمنٹ کا عنوان ہے: ’’ایف 35 پروگرام میں ترکی کی شرکت کا خاتمہ‘‘۔ بقول ان کے، ’’اب یہ تربیتی پروگرام نہیں ہوگا، چونکہ ہم ترکی کو ایف 35 پروگرام سے معطل کرتے ہیں۔ ان نظاموں میں مہارت کے حصول کی اب کوئی ضرورت باقی نہیں رہی‘‘۔

اپنے مراسلے میں، شناہان نے چوکنہ کیا کہ ترک اہل کاروں کے لیے ’لوک ایئر فورس بیس‘ اور ’اگلین ایئر فورس بیس‘ پر تربیت ختم کیے جانے کا باضابطہ اعلان جولائی کے آخر میں کر دیا جائے گا۔

شناہان نے اپنے مراسلے میں کہا ہے کہ طے شدہ وقت کا ذکر واضح کرتا ہے کہ سارے نہیں بلکہ ایف 35 پر موجودہ تربیت حاصل کرنے والے ترک طالب علم کورس مکمل کر سکتے ہیں، جنھیں 31 جولائی، 2019ء تک امریکہ سے واپس جانا ہوگا۔ اب بھی آپ کے پاس یہ متبادل ہے کہ ایس 400 کے معاملے پر فیصلہ تبدیل کر لیں‘‘۔

ترکی نے 100 فائٹر طیارے خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جس کی مجموعی مالیت، سکے کی موجودہ قدر کے مطابق، 9 ارب ڈالر ہے‘‘۔

کشیدہ تعلقات

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترکی کو ایف 35 کے پروگرام سے الگ کیا جاتا ہے تو دونوں اتحادیوں کے تعلقات میں یہ حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے بگاڑ کا معاملہ خیال کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG