رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کا آغاز


امریکی سپریم کورٹ کی عمارت

امریکی سپریم کورٹ نے پیر کو نئے عدالتی سال کا آغاز ایک اہم مقدمے سے کیا ہے جس میں عدالت اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ آیا ایسی کمپنیوں پر امریکی عدالتوں میں مقدمات چلائے جاسکتے ہیں یا نہیں جن پر دیگر ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام ہو۔

امریکی سپریم کورٹ نے پیر کو نئے عدالتی سال کا آغاز ایک اہم مقدمے سے کیا ہے جس میں عدالت اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ آیا ایسی کمپنیوں پر امریکی عدالتوں میں مقدمات چلائے جاسکتے ہیں یا نہیں جن پر دیگر ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام ہو۔

یہ مقدمہ12 نائجیرین باشندوں نے تیل تلاش کرنے والی معروف بین الاقوامی کمپنی 'رائل ڈچ پیٹرولیم' کے خلاف دائر کیا ہے۔

مدعا علیہان کا الزام ہے کہ مذکورہ کمپنی نائجیریا کے سابق فوجی حکمران ثانی اباچا کے دور میں مقامی افراد پر تشدد، ان کے قتل اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوئی تھی۔

مذکورہ مقدمے نے عالمی توجہ حاصل کی ہے اور جرمنی، برطانیہ، ارجنٹینا کی حکومتوں سمیت توانائی کی کئی عالمی کمپنیوں، اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق اعلیٰ ترین عہدیدار نیوی پیلے اور متاثرہ افراد کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے اس مقدمے میں اپنے موقف پر مشتمل دستاویزات عدالت میں جمع کرائی ہیں۔

عدالتی سال کے آغاز پر امریکی سپریم کورٹ کئی دیگر اہم مقدمات کی سماعت بھی کرے گی جن میں سے ایک اہم مقدمہ امریکی کالجز میں داخلوں کے دوران میں نسلی امتیاز برتے جانے کے خلاف ہے۔

مذکورہ مقدمہ ایک سفید فام طالبہ نے 'یونی ورسٹی آف ٹیکساس' کے خلاف دائر کیا ہے جس میں اس کا موقف ہے کہ اسے داخلہ قواعد کی ایک ایسی شق کے تحت نااہل قرار دیا گیا جس میں نسل کی بنیاد پر داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ امریکی کالجز میں داخلے کے لیے اس قسم کے قواعد عام ہیں جن کا مقصد داخل کیے جانے والے طلبہ میں ثقافتی و مذہبی تنوع کی حوصلہ افزائی کرنا ہوتا ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے قواعد نامناسب ہیں اور اب ان کی ضرورت نہیں رہی۔

امریکی سپریم کورٹ نے اس سے قبل اس معاملے پر 2003ء میں فیصلہ سنایا تھا جس کی رو سے کالجز میں داخلہ دیتے وقت طلبہ کی نسلی شناخت کو مدِ نظر رکھنے کی اجازت دیدی گئی تھی۔
XS
SM
MD
LG