رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی عدالت نے ’نگرانی کے پروگرام‘ کے خلاف فیصلہ منسوخ کردیا


سنہ 2013میں ایک زیریں عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ ’این ایس اے‘ کا پروگرام غیر آئینی ہے، کیونکہ بغیر جائز سبب کے، تلاش کا کام آئین کی خلاف ورزی ہے

امریکہ کی ایک اپیل کورٹ نے ’نیشنل سکیورٹی ایجنسی‘ کے نگرانی کے پروگرام سے متعلق پچھلے فیصلے کو معطل کردیا ہے، جس میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو پکڑنے کے لیے ادارے کی جانب سے لاکھوں امریکیوں کے ٹیلی فون ریکارڈ اکٹھا کرنا غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔

سنہ 2013میں ایک زیریں عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ ’این ایس اے‘ کا پروگرام غیر آئینی ہے، کیونکہ بغیر جائز سبب کے، تلاش کا کام آئین کی خلاف ورزی ہے۔

تاہم، اپیلیٹ کورٹ نے فیصلہ دیا کہ مدعی یہ بات ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ اِس پروگرام کے ایک حصے کے طور پر اُنھیں کسی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ تین ججوں کے پینل نے یہ کیس اُسی زیریں عدالت کو واپس بھیجا ہے جس نے اس کے خلاف رائے دی تھی، جس میں کہا گیا ہے کہ اپیل کو مؤخر کیا جائے، جس میں ڈیٹا اکٹھا کرنے کو روکنے کے لیے کہا گیا تھا۔
مدعی ایک سرگرم کارکن ہیں، اور افغانستان میں فرائض انجام دینے والے این ایس اے کے ایک ملازم کے والد ہیں۔

جون میں امریکی کانگریس نے ایک قانون منظور کیا تھا جس میں نگرانی کے پروگرام کی سطح کو کم کیا گیا تھا اور امریکیوں کے ٹیلی فون کالز کے ریکارڈ اکٹھا کرنے کے کام کو بہت حد تک ختم کیا جائے۔ یہ قانون اُس وقت منظور کیا گیا تھا جب ایک امریکی اپیلز عدالت نے یہ فیصلہ سنایا تھا کہ امریکی ’پیریاٹ ایکٹ‘ کی رو سے این ایس اے کو کبھی بھی ڈیٹا اکٹھا کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔

ایک خصوصی عدالتی ادارہ (دی فورین انٹیلی جنس سرویلنس کورٹ)،جو این ایس اے کے پروگرام پر نگاہ رکھتا ہے، بعدازاں فیصلہ دیا تھا کہ یہ پروگرام 180 دِنوں کے لیے بحال کیا جا سکتا ہے۔ چھ ماہ کی اِس مدت کے دوران این ایس اے کو وقت دیا گیا تھا کہ ایک متبادل نظام وضع کریں جس کے تحت فون کمپنیاں خود ڈیٹا اسٹور کریں۔

ایجنسی کے اختیارات کی پوچھ گچھ کا سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب ادارے کے سابق کنٹریکٹر، ایڈورڈ سنوڈن نے سنہ 2013میں نگرانی کے پروگرام کے راز کا انکشاف نیوز میڈیا میں کیا۔


XS
SM
MD
LG